تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٢:١٣
الله الذي رفع السماوات بغير عمد ترونها ثم استوى على العرش وسخر الشمس والقمر كل يجري لاجل مسمى يدبر الامر يفصل الايات لعلكم بلقاء ربكم توقنون ٢
ٱللَّهُ ٱلَّذِى رَفَعَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍۢ تَرَوْنَهَا ۖ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ وَسَخَّرَ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ ۖ كُلٌّۭ يَجْرِى لِأَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى ۚ يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ يُفَصِّلُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لَعَلَّكُم بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ ٢
ٱللَّهُ
ٱلَّذِي
رَفَعَ
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
بِغَيۡرِ
عَمَدٖ
تَرَوۡنَهَاۖ
ثُمَّ
ٱسۡتَوَىٰ
عَلَى
ٱلۡعَرۡشِۖ
وَسَخَّرَ
ٱلشَّمۡسَ
وَٱلۡقَمَرَۖ
كُلّٞ
يَجۡرِي
لِأَجَلٖ
مُّسَمّٗىۚ
يُدَبِّرُ
ٱلۡأَمۡرَ
يُفَصِّلُ
ٱلۡأٓيَٰتِ
لَعَلَّكُم
بِلِقَآءِ
رَبِّكُمۡ
تُوقِنُونَ
٢
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 13:1إلى 13:2

قرآن ایک خداکو ماننے کی دعوت دیتاہے۔ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ خدا اگر ہے تو ہم کو دکھائی کیوں نہیں دیتا۔ مگر ہماری معلوم کائنات بتاتی ہے کہ کسی چیز کا دکھائی نہ دینا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اس کا کوئی وجود بھی نہیں۔ اس کی ایک مثال قوتِ کشش ہے۔ خلا میں بے شمار الگ الگ ستارے اور سیارے ہیں۔ انسانی علم کہتاہے کہ ان اجرام سماوی کے درمیان ایک غیر مرئی قوت کشش ہے جو وسیع خلا میں ان کو سنبھالے ہوئے ہے۔ پھر انسان جب غیر مرئی ہونے کے باوجود قوت کشش کی موجودگی کا اقرار کررہا ہے تو غیر مرئی ہونے کی وجہ سے خدا کے وجود کا انکار کرنے میں وہ کیوں کر حق بجانب ہوگا۔

یہی معاملہ وحی ورسالت کا ہے۔ کائنات کا طالب علم جب کائنات کا مطالعہ کرتاہے تو وہ پاتا ہے کہ یہاں ہر چیز ایک نظام کی پابند ہے۔ ایسا معلوم ہوتاہے کہ تمام چیزیں کسی خاص حکم میں جکڑی ہوئی ہیں۔ یہ ’’حکم‘‘ خود ان چیزوں کے اندر موجود نہیں ہے۔ یقیناً وہ خارج سے آتاہے۔ گویا تمام دنیا اپنے عمل کے لیے ’’خارج‘‘ سے ہدایات لے رہی ہے۔ انسان کے علاوہ بقیہ دنیا میں اس خارجی ہدایت کا نام قانون فطرت ہے، اور انسان کی دنیا میں اس کا نام وحی والہام ۔ وحی دراصل اسی خارجی رہنمائی کی انسانی دنیا تک توسیع ہے جس کو بقیہ دنیا میں قانونِ فطرت کہاجاتا ہے۔

کائنات گویا ایک مشین ہے اور قرآن اس کی گائڈ بک۔ اوّل الذکر خدا کی تدبیر امر کی مثال ہے۔ اور ثانی الذکر خدا کی تفصیل آیات کی مثال۔ ان دونوں کے درمیان کامل مطابقت ہے۔ جو کچھ کائنات میں عملاً نظر آتاہے وہ قرآن میں لفظی طورپر موجود ہے۔ یہ مطابقت بیک وقت دو باتیں ثابت کرتی ہے۔ ایک یہ کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے اور دوسرے یہ کہ قرآن اسی خالق کی کتاب ہے، نہ کہ محدود انسانی دماغ کی تخلیق۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة