تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٨٧:١٥
ولقد اتيناك سبعا من المثاني والقران العظيم ٨٧
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَـٰكَ سَبْعًۭا مِّنَ ٱلْمَثَانِى وَٱلْقُرْءَانَ ٱلْعَظِيمَ ٨٧
وَلَقَدۡ
ءَاتَيۡنَٰكَ
سَبۡعٗا
مِّنَ
ٱلۡمَثَانِي
وَٱلۡقُرۡءَانَ
ٱلۡعَظِيمَ
٨٧
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 15:87إلى 15:93

سات مثانی سے مراد سورہ فاتحہ ہے۔ سورہ فاتحہ پورے قرآن کا خلاصہ ہے اور بقیہ قرآن اس کی تفصیل۔ یہ قرآن بلا شبہ زمین و آسمان کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اس کا ہدایت نامہ ہونا اس کے ماننے والوں کے لیے آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اور اس کا آخری کتاب ہونا لازم ٹھہراتا ہے کہ ضرور اس کو اپنے مخالفین کے اوپر غلبہ حاصل ہو۔ کیوں کہ اگر غلبہ نہ ہو تو وہ آخری کتاب کی حیثیت سے باقی نہیں رہ سکتی۔

داعی کوچاہیے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو سوچ کر وہ مایوس نہ ہو۔ بلکہ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کو دیکھ کر مطمئن ہو اور ان کی دل جوئی اور تربیت میں پوری توجہ صرف کرے۔

قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے سے مراد تورات کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے۔ یہود نے اپنی آسمانی کتاب کو عملاً دو حصوں میں بانٹ رکھا تھا اس کی جو تعلیم ان کی خواہشات کے خلاف ہوتی اس کو وہ چھوڑ دیتے اور جو ان کی خواہشوں کے مطابق ہوتی اس کو لے لیتے۔ پہلی قسم کی آیتیں ان کے یہاں صرف تقدس کے خانہ میں پڑی رہتیں۔ ان پر وہ نہ زیادہ دھیان دیتے اور نہ ان کو زیادہ پھیلاتے۔ البتہ دوسری قسم کی آیتوں کی وہ خوب اشاعت کرتے۔ بالفاظ دیگر انھوںنے کتاب خداوندی کو اپنے مفادات کے تابع بنا لیا تھا، نہ کہ خدائی احکام کے تابع۔

کسی چیز کو پانے کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے اس کے اجزاء کو پانا۔ دوسرا ہے ا س کو اس کی کلی حیثیت میں پانا۔ درخت کو جب آدمی اس کی کلی حیثیت میں پہچان لے تو وہ کہتا ہے کہ یہ درخت ہے۔ لیکن اگر وہ اس کو اس کی کلی حیثیت میں نہ پہچانے تو وہ تنہ اور شاخ اور پتی اور پھول اور پھل کا ذکر کرے گا۔ وہ اس واحد لفظ کو نہ بول سکے گا جس کے بولنے کے بعد اس کے تمام متفرق اجزاء ایک اصل میں جڑ کر وحدت کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

یہی معاملہ خدا کی کتاب کا بھی ہے۔ خدا کی کتاب میں بہت سے متفرق احکام ہیں اسی کے ساتھ اس کا ایک کلی اور مرکزی نکتہ ہے۔ جو لوگ خدا کی کتاب میں گم ہوں وہ خدا کی کتاب کو اس کی کلی حیثیت میں پالیں گے ۔ اس کے برعکس، جو لوگ خود اپنے آپ میں گم ہوں وہ خدا کی کتا ب کو دیکھتے ہیں تو خدا کی کتاب ان کو بس مختلف اور متفرق احکام کا مجموعہ دکھائی دیتی ہے۔ وہ ان میں سے اپنے ذوق اورحالات کے مطابق کوئی جزء لے لیتے ہیں اور اس پر اس طرح زور صرف کرنے لگتے ہیں جیسے کہ بس وہی ایک چیز سب کچھ ہو۔

درخت کی جڑ میں پانی دینے سے پورے درخت میں پانی پہنچ جاتا ہے۔ اسی طرح جب خدا کی کتاب کے کلی اور مرکزی پہلو کو زندہ کیا جائے تو ا س کے زندہ ہوتے ہی بقیہ تمام اجزاء لازمی طورپر زندہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر کسی ایک جزء کو لے کر اس پر زور دیا جائے تو اس کی ظاہری دھوم تو مچ سکتی ہے مگر اس سے دین کا حقیقی احیاء نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اس کو زندگی مرکزی پہلو کے زندہ ہونے سے ملتی ہے اور وہ سرے سے زندہ ہی نہیںہوا۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة