تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
١٥٥:٢
ولنبلونكم بشيء من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس والثمرات وبشر الصابرين ١٥٥
وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَىْءٍۢ مِّنَ ٱلْخَوْفِ وَٱلْجُوعِ وَنَقْصٍۢ مِّنَ ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَنفُسِ وَٱلثَّمَرَٰتِ ۗ وَبَشِّرِ ٱلصَّـٰبِرِينَ ١٥٥
وَلَنَبۡلُوَنَّكُم
بِشَيۡءٖ
مِّنَ
ٱلۡخَوۡفِ
وَٱلۡجُوعِ
وَنَقۡصٖ
مِّنَ
ٱلۡأَمۡوَٰلِ
وَٱلۡأَنفُسِ
وَٱلثَّمَرَٰتِۗ
وَبَشِّرِ
ٱلصَّٰبِرِينَ
١٥٥
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الآيات ذات الصلة
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 2:153إلى 2:157

دین یہ ہے کہ آدمی اپنے خالق کو اس طرح پالے کہ اس کی یاد میں اور اس کی شکر گزاری میں اس کے صبح و شام بسر ہونے لگیں۔ اس قسم کی زندگی ہی تمام خوشیوں اور لذتوں کا خزانہ ہے۔ مگر یہ خوشیاں اور لذتیں اپني حقیقی صورت میں آدمی کو صرف آخرت میں ملیں گی۔ موجودہ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے انعام کے لیے نہیں بنایا بلکہ امتحان کے لیے بنایا ہے، یہاں ایسے حالات رکھے گئے ہیں کہ خداپرستی کی راہ میں آدمی کے لیے رکاوٹیں پڑیں تاکہ معلوم ہو کہ کون اپنے ايمان كے اظهار میں سنجیدہ ہے اور کون سنجیدہ نہیں — نفس کے محرکات، بیوی بچوں کے تقاضے، دنیا کی مصلحتیں، شیطان کے وسوسے، سماجی حالات کا دباؤ، وغيره۔ یہ چیزیں فتنہ کی صورت میں آدمی کو گھیرے رہتی ہیں۔ آدمی کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ ان فتنوں کو پہچانے اور ان سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے ذکر وشکر کے تقاضے پورا کرے۔

ان امتحانی مشکلات کے مقابلہ میں کامیابی کا واحد ذریعہ نماز اور صبر ہے۔ یعنی اللہ سے لپٹنا اور ہر قسم کی ناخوش گواریوں کو برداشت کرتے ہوئے بالارادہ حق کے راستہ پر جمے رہنا۔ جو لوگ نا موافق حالات سامنے آنے کے باوجود نہ بدکیں اور بظاہر غیر اللہ میں نفع دیکھتے ہوئے اللہ کے ساتھ اپنے کو باندھے رہیں وہی وہ لوگ ہیں جو سنتِ الٰہی کے مطابق کامیابی کی منزل تک پہنچیں گے۔

حق کی راہ میں مشکلات ومصائب کا دوسرا سبب مومن کا تبلیغی کردار ہے۔ تبلیغ ودعوت کا کام نصیحت اور تنقید کا کام ہے۔ اور نصیحت اور تنقید ہمیشہ آدمی کے لیے سب سے زیادہ ناپسنديده چیز رہی ہے، ان میں بھی نصیحت سننے کے لیے سب سے زیادہ حساس وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے دنیا کے کاروبار کو دین کے نام پر کررہے ہوں۔داعی کی ذات اور اس کے پیغام میں ایسے تمام لوگوں کو اپنی حیثیت کی نفی (negation)نظر آنے لگتی ہے۔ داعی کا وجود ایک ایسی ترازو بن جاتاہے جس پر ہر آدمی تُل رہا ہو۔ ا س کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ داعی بننا بھِڑ کے چھۃ میں ہاتھ ڈالنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ ایسا آدمی اپنے ماحول کے اندر بے جگہ کردیا جاتا ہے۔ اس کی معاشیات برباد ہوجاتی ہیں۔ اس کی ترقیوں کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ حتی کہ اس کی جان تک خطرہ میں پڑجاتی ہے۔ مگر وہی آدمی راہ پر ہے جس کو بے راہ بتا کر ستایا جائے۔ وہی پاتا ہے جو اللہ کی راہ میں کھوئے۔ وہی جی رہا ہے جو اللہ کی راہ میں اپنی جان دے دے۔آخرت کی جنت اسی کے لیے ہے جو اللہ کی خاطر دنیا کی جنت سے محروم ہوگیا ہو۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة