تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
١٥٨:٢
۞ ان الصفا والمروة من شعاير الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بهما ومن تطوع خيرا فان الله شاكر عليم ١٥٨
۞ إِنَّ ٱلصَّفَا وَٱلْمَرْوَةَ مِن شَعَآئِرِ ٱللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ ٱلْبَيْتَ أَوِ ٱعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًۭا فَإِنَّ ٱللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ ١٥٨
۞ إِنَّ
ٱلصَّفَا
وَٱلۡمَرۡوَةَ
مِن
شَعَآئِرِ
ٱللَّهِۖ
فَمَنۡ
حَجَّ
ٱلۡبَيۡتَ
أَوِ
ٱعۡتَمَرَ
فَلَا
جُنَاحَ
عَلَيۡهِ
أَن
يَطَّوَّفَ
بِهِمَاۚ
وَمَن
تَطَوَّعَ
خَيۡرٗا
فَإِنَّ
ٱللَّهَ
شَاكِرٌ
عَلِيمٌ
١٥٨
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 2:158إلى 2:162

حضرت ابراہیم کا وطن عراق تھا۔ اللہ کے حکم سے وہ اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کو لاکر اُس مقام پر چھوڑ گئے جہاں آج مکہ ہے۔ اس وقت یہاںنہ کوئی آبادی تھی اور نہ پانی۔ پیاس کا تقاضا ہوا تو ہاجرہ پانی کی تلاش میں نکلیں۔ پریشانی کے عالم میں وہ صفا اور مروہ نامی پہاڑیوں کے درمیان دوڑتی رہیں۔ سات چکر لگانے کے بعد ناکام لوٹیں تو دیکھا کہ ان کی قیام گاہ کے پاس ایک چشمہ پھوٹ نکلا ہے۔ یہ چشمہ بعد کو زمزم کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو بتاتاہے کہ اللہ کا معاملہ اپنے بندوں سے کیا ہے۔ اللہ کا کوئی بندہ اگر اللہ کی راہ میں بڑھتے ہوئے اس حدتک چلا جائے کہ اس کے قدموں کے نیچے ریگستان اور بیابان کے سوا کچھ نہ رہے تو اللہ اپنی قدرت سے ریگستان میں اس کے لیے رزق کے چشمے جاری کردے گا — حج اور عمرہ میں صفا ومروہ کے درمیان سعی کا مقصد اسی تاریخ کی یاد کو تازہ کرنا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور تعلیمات میں اللہ کی نشانیاں اتنی واضح تھیں کہ یہ سمجھنا مشکل نہ تھا کہ آپ کی زبان پر اللہ کا کلام جاری ہوا ہے۔ مگر اہل کتاب کے علما نے آپ کا اقرار نہیں کیا۔ ان کو اندیشہ تھا کہ اگر وہ پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں تو ان کی مذہبی بڑائی ختم ہوجائے گی۔ ان کی جمی ہوئی تجارتیں اجڑ جائیں گی۔ اپنی کامیابی کار از انھوں نے حق کو چھپانے میں سمجھا، حالاں کہ ان کی کامیابی کا راز حق کے اعلان میں تھا۔ حق کی طرف بڑھنے میں وہ اپنے آپ کو بے زمین ہوتاہوا دیکھ رہے تھے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہی وہ چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ جو بندہ حق کی خاطر بے زمین ہوجائے وہ سب سے بڑی زمین کو پالیتاہے، یعنی اللہ رب العالمین کی نصرت کو۔

تاہم اللہ کی رحمت کا دروازہ آدمی کے لیے ہر وقت کھلا رہتا ہے۔ ابتدائی طور پر غلطی کرنے کے بعداگر آدمی کو ہوش آجائے اور وہ پلٹ کر صحیح رویہ اختیار کرلے۔ وہ اس امر حق کا اعلان کرے جس کو اللہ چاہتا ہے کہ اس کا اعلان کیا جائے تو اللہ اس کو معاف کردے گا۔ مگر جو لوگ عدم اعتراف پر قائم رہیں اور اسی حال میں مرجائیں تو وہ اللہ کی رحمتوں سے دور کرديے جائیں گے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة