تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
١٧٠:٢
واذا قيل لهم اتبعوا ما انزل الله قالوا بل نتبع ما الفينا عليه اباءنا اولو كان اباوهم لا يعقلون شييا ولا يهتدون ١٧٠
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّبِعُوا۟ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُوا۟ بَلْ نَتَّبِعُ مَآ أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ ءَابَآءَنَآ ۗ أَوَلَوْ كَانَ ءَابَآؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْـًۭٔا وَلَا يَهْتَدُونَ ١٧٠
وَإِذَا
قِيلَ
لَهُمُ
ٱتَّبِعُواْ
مَآ
أَنزَلَ
ٱللَّهُ
قَالُواْ
بَلۡ
نَتَّبِعُ
مَآ
أَلۡفَيۡنَا
عَلَيۡهِ
ءَابَآءَنَآۚ
أَوَلَوۡ
كَانَ
ءَابَآؤُهُمۡ
لَا
يَعۡقِلُونَ
شَيۡـٔٗا
وَلَا
يَهۡتَدُونَ
١٧٠
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 2:168إلى 2:171

شرک کیا ہے، جذباتِ عبودیت کی تسکین کے لیے خدا کے سوا کوئی دوسرا مرکز بنالینا۔ خدا انسان کی سب سے بڑی اور لازمی ضرورت ہے۔ خدا کی طلب انسانی فطرت میں اس طرح بسی ہوئی ہے کہ کوئی شخص خدا کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ انسان کی گم راہی خدا کو چھوڑنا نہیں ہے بلکہ اصلی خدا کی جگہ کسی فرضی خدا کو اپنا خدا بنا لینا ہے۔ اس ليے شریعت میں ہر اس چیز کو حرام قرار دیاگیا ہے جو کسی بھی درجہ میں آدمی کی فطری طلب کو اللہ کے سوا کسی اور کی طرف موڑ دینے والی ہو۔

بت پرست قومیں بتوں کے نام پر جانور چھوڑتی ہیں اور ان جانوروں سے نفع اٹھانا حرام سمجھتی ہیں۔ اس طرح کسی چیز کو اپنے ليے حرام کرلینا محض ایک سادہ قانونی معاملہ نہیں بلکہ یہ خدا كے دين كے بجائےايك خودساخته دين ايجاد كرناہے۔ کیوں کہ جب ایک چیز کو اس طرح حرام ٹھہرایا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کسی خود ساختہ عقیدہ کی وجہ سے اس کو مقدس سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ خدا کے حقوق میں غیر خدا کو ساجھی بنانا ہے، یہ احترام وتقدس کے ان فطری جذبات کو تقسیم کرنا ہے جو صرف خدا کے لیے ہیں اور جن کو صرف خدا ہی کے لیے ہونا چاہيے۔ شیطان اس قسم کے رواج اس ليے ڈالتا ہے تاکہ وه آدمی کے اندر چھپے ہوئے استعجاب وتقدس کے جذبات کو مختلف سمتوں میں بانٹ کر اللہ کے ساتھ اس کے تعلق کو کمزور کردے۔

ایک بار جب کسی غیر اللہ کو مقدس مان لیا جائے تو انسان کی توہم پرستی اس میں نئی نئی برائیاں پیدا کرتی رہتی ہے۔ ایک ’’جانور‘‘ کو ان پُراسرار اوصاف کا حامل گمان کرلیا جاتا ہے جو صرف خدا کے لیے خاص ہیں۔ اس کو خدا کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ اس سے برکت اور کار برآری کی امید کی جاتی ہے۔ یہ چیز جب اگلی نسلوں تک پہنچتی ہے تو وہ اس کو آباواجداد کی مقدس سنت سمجھ کر اس طرح پکڑ لیتی ہیں کہ اب اس پر کسی قسم کا غور وفکر ممکن نہیں ہوتا۔ حتی کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ لوگ دلیل کی زبان سمجھنے سے اتنا زیادہ عاری ہوجاتے ہیں گویا کہ ان کے پاس نہ آنکھ اور کان ہیں جن سے وہ دیکھیں اور سنیں اور نہ ان کے پاس دماغ ہے جس سے وہ کسی بات کو سمجھیں۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة