تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
١٩١:٢
واقتلوهم حيث ثقفتموهم واخرجوهم من حيث اخرجوكم والفتنة اشد من القتل ولا تقاتلوهم عند المسجد الحرام حتى يقاتلوكم فيه فان قاتلوكم فاقتلوهم كذالك جزاء الكافرين ١٩١
وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ ۚ وَٱلْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ ٱلْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَـٰتِلُوهُمْ عِندَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَـٰتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَـٰتَلُوكُمْ فَٱقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْكَـٰفِرِينَ ١٩١
وَٱقۡتُلُوهُمۡ
حَيۡثُ
ثَقِفۡتُمُوهُمۡ
وَأَخۡرِجُوهُم
مِّنۡ
حَيۡثُ
أَخۡرَجُوكُمۡۚ
وَٱلۡفِتۡنَةُ
أَشَدُّ
مِنَ
ٱلۡقَتۡلِۚ
وَلَا
تُقَٰتِلُوهُمۡ
عِندَ
ٱلۡمَسۡجِدِ
ٱلۡحَرَامِ
حَتَّىٰ
يُقَٰتِلُوكُمۡ
فِيهِۖ
فَإِن
قَٰتَلُوكُمۡ
فَٱقۡتُلُوهُمۡۗ
كَذَٰلِكَ
جَزَآءُ
ٱلۡكَٰفِرِينَ
١٩١
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 2:189إلى 2:193

چاند کا گھٹنا بڑھنا تاریخ جاننے کے لیے ہے، نہ کہ توہم پرستوں کے خیال کے مطابق اس ليے كه بڑھتے چاند کے دن مبارک ہیں اور گھٹتے چاند کے دن منحوس۔ یہ آسمان پر ظاہر ہونے والا قدرت كا كيلنڈر ہے تاکہ اس کو دیکھ کر لوگ اپنے معاملات اور اپنی عبادات کا نظام مقرر کریں۔ اسی طرح بہت سے لوگ ظاہری رسوم کو دین داری سمجھ لیتے ہیں۔ قدیم عربوں نے یہ فرض کرلیا تھا کہ حج کا احرام باندھنے کے بعد اپنے اور آسمان کے درمیان کسی چیز کا حائل ہونا احرام كے آداب کے خلاف ہے۔ اس مفروضہ کی بنا پر وہ ایسا کرتے کہ جب احرام باندھ کر گھر سے باہر آجاتے تو دوبارہ دروازہ کے راستہ سے گھر میں نہ جاتے بلکہ دیوار کے اوپر سے چڑھ کر صحن میں داخل ہوتے۔ مگر اس قسم کے ظاہری آداب کا نام دین داری نہیں۔ دین داری یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرے اور زندگی میں اس کی مقرر کی ہوئی حدوں کو پابندی کرے۔

مومن کو دین کا عامل بننے کے ساتھ دین کا مجاہدبھی بننا ہے۔ یہاں جس جہاد کا ذکر ہے وہ جہاد وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیش آیا۔ عرب کے مشرکین اتمام حجت کے باوجود دعوت رسالت سے انکار کرکے اپنے ليے زندگی کا حق کھو چکے تھے، نیز انھوں نے جارحیت کا آغاز کرکے اپنے خلاف فوجی اقدام کو درست ثابت کردیا تھا۔ اس بنا پر ان کے خلاف تلوار اٹھانے کا حکم ہوا۔ ’’اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نه رہے اور دین اللہ کا ہو جائے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ مذهبي جبر كا خاتمه ہوجائے او ر مذهب كے معاملے ميں انسان كو آزادي حاصل هو جائے۔ اس حکم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے عرب کو توحید کا دائمی مرکز بنا دیا۔

اہلِ ایمان کو جنگ کی اجازت صرف اس وقت ہے جب کہ فریق مخالف کی طرف سے حملہ کا آغاز ہوچکا ہو۔ دوسرے یہ کہ جب اہل ایمان غلبہ پالیں تو اس کے بعد ماضی كے جرائم پر کسی کے لیے کوئی سزا نہیں۔ ہتھیار ڈالتے ہی ماضی کے جرائم معاف کرديے جائیں گے۔ اس کے بعد سزا کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جو آئندہ کسی قابل سزا جرم کا ارتکاب کرے۔ عام حالات میں قتل کا حکم اور ہے اور جنگی حالات میں قتل کا حکم اور۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة