تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٧٧:٢
اولا يعلمون ان الله يعلم ما يسرون وما يعلنون ٧٧
أَوَلَا يَعْلَمُونَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ٧٧
أَوَلَا
يَعۡلَمُونَ
أَنَّ
ٱللَّهَ
يَعۡلَمُ
مَا
يُسِرُّونَ
وَمَا
يُعۡلِنُونَ
٧٧
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 2:75إلى 2:77

مدینہ کے لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے ان کے اس قدر جلد آپ کو پہچان لینے اور آپ کو مان لینے کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ یہودی پڑوسیوں سے اکثر سنتے رہتے تھے کہ ایک آخری نبی آنے والے ہیں۔ اس بنا پر نبی آخر الزماں کی آمد کی خبر ان کے لیے ایک مانوس خبر تھی۔ یہ مسلمان طبعی طورپر اس امید میں تھے کہ جن یہودیوں کی باتیں سن کر ان کے دل کے اندر قبولِ اسلام کا ابتدائی جذبہ ابھرا تھا وہ یقیناً خود بھی آگے بڑھ کر اس پیغمبر کا ساتھ دیں گے۔ چنانچہ وہ پُر جوش طورپر ان یہودیوں کے پاس اسلام کا پیغام لے کر جاتے اور ان کو دعوت دیتے کہ وہ آپ پر ایمان لا کر آپ کا ساتھ دینے والے بنیں۔

مگر مسلمانوں کو اس وقت سخت دھکا لگتا جب وہ دیکھتے کہ ان کی امیدوں کے برعکس یہودِ مدینہ ان کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ اس کے نتیجے میں ایک اور فتنہ پیدا ہو نے لگاتھا۔وہ فتنہ یہ تھا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو ناپسند کرتے تھے۔ وہ مسلمانوں سے کہتے کہ پیغمبر اسلام کا معاملہ اتنا یقینی نہیں جتنا تم لوگوں نے سمجھ لیا ہے۔ اگر وہ اتنا یقینی ہوتا تو مدینہ کے یہ یہودی علماء ضرور ان کی طرف دوڑ پڑتے۔ کیوں کہ وہ آسمانی کتابوں کے بارے میں تم سے زیادہ جانتے ہیں ۔

مگر کسی بات کو قبول کرنے کے لیے اس بات کا جاننا کافی نہیں ہے۔ بلکہ اس بات کے بارے میں سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ پچھلی قوموں کا حال یہ تھا کہ انھوں نے خود اپنے پاس کی ان کتابوں میں تبدیلیاں کر ڈالیں جن کو وہ آسمانی کتابیں مانتے تھے۔ اپنی مقدس کتابوں میں وہ جس بات کو اپنی خواہش کے خلاف دیکھتے اس میں تاویل یا تحریف کرکے اس کو اپنی خواہش کے مطابق بنا لیتے۔ وہ اپنے دین کو اپنے دنیوی مفادات کے تابع بنائے ہوئے تھے۔ جو لوگ اپنے عمل سے اس قسم کی غیر سنجیدگی کا ثبوت دے رہے ہوں وہ اپنے سے باہر کسی حق کو ماننے پر کیسے راضی ہوجائیں گے۔

کوئی بات خواہ کتنی ہی برحق ہو، اگر آدمی اس کا انکار کرنا چاہے تو وہ اس کے لیے کوئی نہ کوئی تاویل ڈھونڈ لے گا۔ اس تاویل کی آخری صورت کا نام تحریف ہے۔ اس طرز عمل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ کے معاملہ کی سنگینی آدمی کے دل سے نکل جاتی ہے۔ وہ خدا کے حکم کو سنتا ہے مگر لفظی تاویل کرکے مطمئن ہوجاتا ہے کہ اس کا اپنا معاملہ اس حکم کی زد میں نہیں آتا۔ وہ خدا کو مانتا ہے مگر اس کی بے حسی اس کو ایسے ایسے کاموں کے لیے ڈھیٹ بنادیتی ہے، جو کوئی ایسا آدمی ہی کرسکتا ہے جو نہ خدا کو مانتا ہو اور نہ یہ جانتا ہو کہ اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے اور اس کی باتوں کو سن رہا ہے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة