تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
١٤٢:٣
ام حسبتم ان تدخلوا الجنة ولما يعلم الله الذين جاهدوا منكم ويعلم الصابرين ١٤٢
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَـٰهَدُوا۟ مِنكُمْ وَيَعْلَمَ ٱلصَّـٰبِرِينَ ١٤٢
أَمۡ
حَسِبۡتُمۡ
أَن
تَدۡخُلُواْ
ٱلۡجَنَّةَ
وَلَمَّا
يَعۡلَمِ
ٱللَّهُ
ٱلَّذِينَ
جَٰهَدُواْ
مِنكُمۡ
وَيَعۡلَمَ
ٱلصَّٰبِرِينَ
١٤٢
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 3:139إلى 3:143

ایمان لانا گویا اللہ کے لیے جینے اور اللہ کے لیے مرنے کا اقرار کرنا ہے۔ جو لوگ اس طرح مومن بنیں ان کے لیے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت دے گا اور ان کو یہ اہم ترین اعزاز عطا کرے گا کہ جن لوگوں نے دنیا میںان کو رد کردیا تھا ان کے اوپر ان کو اپنی عدالت میں گواہ بنائے اور ان کی گواہی کی بنیاد پر ان کے مستقل انجام کا فیصلہ کرے۔ مگر یہ مقام محض لفظی اقرار سے نہیں مل جاتا اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی صبر اور جہاد کی سطح پر اپنے سچے ہونے کا ثبوت دے۔ مومن خواہ اپنی ذاتی زندگی کو ایمان واسلام پر قائم کرے یا وہ دوسروں کے سامنے خدا کے دین کا گواہ بن کر کھڑا ہو، ہرحال میں اس کو دوسروں کی طرف سے مشکلات اور رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ ان مشکلات اور رکاوٹوں کا مقابلہ کرنا جہاد ہے، اور ہر حال میں اپنے اقرار پر جمے رہنے کا نام صبر ہے۔ جو لوگ اس جہاد اورصبر کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کی آباد کاری کے قابل ٹھہرے۔ نیز اسی سے دنیا کی سر بلندی کا راستہ کھلتا ہے۔ ’’جہاد‘‘ ان کے مسلسل اور مکمل عمل کی ضمانت ہے اور ’’صبر‘‘ اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ کبھی کوئی جذباتی اقدام نہیں کریں گے۔ اور یہ دو باتیں جس گروہ میں پیدا ہوجائیں اس کے لیے خدا کی اس دنیا میں کامیابی اتنی ہی یقینی ہوجاتی ہے جتنی موافق زمین میںایک بیج کا بار آور ہونا۔

ایک شخص اللہ کے راستے پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے تو دوسروں کی طرف سے طرح طرح کے مسائل پیش آتے ہیں۔ یہ مسائل کبھی اس کو بے یقینی کی کیفیت میںمبتلا کرتے ہیں۔ کبھی مصلحت پرستی کا سبق دیتے ہیں۔ کبھی اس کے اندر منفی نفسیات ابھارتے ہیں۔ کبھی خدا کے خالص دین کے مقابلہ میں ایسے عوامی دین کا نسخہ بتاتے ہیں جو لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔ یہی موجودہ دنیامیں آدمی کا امتحان ہے۔ ان مواقع پر آدمی جو ردعمل ظاہر کرے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اقرارِ ایمان میں سچا تھا یا جھوٹا۔ اگر اس کا عمل اس کے دعوائے ایمان کے مطابق ہو تو وہ سچا ہے اور اگر اس کے خلاف ہو تو جھوٹا۔ شہید (اللہ کا گواہ) بننا اس سفر کی آخری انتہا ہے۔ اللہ کا ایک بندہ لوگوں کے درمیان حق کا داعی بن کر کھڑا ہوا۔ اس کا حال یہ تھا کہ وہ جس چیز کی طرف بلا رہا تھا، خود اس پر پوری طرح قائم تھا۔ لوگوں نے اس کو حقیر سمجھا مگر اس نے کسی کی پروا نہ کی۔ اس پر مشکلات آئیں مگر وہ اس کو اپنے مقام سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ وہ نہ کمزور پڑا اور نہ منفی نفسیات کا شکار ہوا۔ حتی کہ اس کے جان ومال کی بازی لگ گئی پھر بھی وہ اپنے دعوتی موقف سے نہ ہٹا۔ یہ امتحان حد درجہ طوفانی امتحان ہے۔ مگر اس سے گزرنے کے بعدہی وہ انسان بنتا ہے جس کو اللہ اپنے بندوں کے اوپر اپنا گواہ قرار دے۔ آدمی جب ہر قسم کے حالات کے باوجود اپنے دعوتی عمل پر قائم رہتا ہے تو وہ اپنے پیغام کے حق میں اپنے یقین کا ثبوت دیتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ جس بات کی خبر دے رہا ہے وہ ایک حد درجہ سنجیدہ معاملہ ہے، نہ کہ کوئی سرسری معاملہ۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة