تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
١٧٠:٣
فرحين بما اتاهم الله من فضله ويستبشرون بالذين لم يلحقوا بهم من خلفهم الا خوف عليهم ولا هم يحزنون ١٧٠
فَرِحِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِن فَضْلِهِۦ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِٱلَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا۟ بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ١٧٠
فَرِحِينَ
بِمَآ
ءَاتَىٰهُمُ
ٱللَّهُ
مِن
فَضۡلِهِۦ
وَيَسۡتَبۡشِرُونَ
بِٱلَّذِينَ
لَمۡ
يَلۡحَقُواْ
بِهِم
مِّنۡ
خَلۡفِهِمۡ
أَلَّا
خَوۡفٌ
عَلَيۡهِمۡ
وَلَا
هُمۡ
يَحۡزَنُونَ
١٧٠
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 3:169إلى 3:175

جو لوگ اسلام دشمنوں سے لڑے اور شہید ہوئے ان کو منافقین ’’موتِ ضیاع‘‘ کہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ مسلمان ایک شخص کے بہکاوے میں آکر اپنی جانیں ضائع کررہے ہیں۔ فرمایا کہ جس کو تم موت سمجھتے ہو وہی حقیقت میں زندگی ہے۔ تم صرف دنیا کا نفع نقصان جانتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آخرت کی راہ میں جان دینا تمھیں اپنے آپ کو برباد کرنا معلوم ہوتا ہے مگر اللہ کی راہ میں مرنے والے تم سے زیادہ بہتر زندگی پائے ہوئے ہیں۔ وہ آخرت میں تم سے زیادہ عیش کی حالت میں ہیں۔

شیطان کا یہ طریقہ ہے کہ وہ جن انسانوں کو اپنے قریب پاتاہے انھیں اکسا کر کھڑا کردیتا ہے كہ وہ دین کی طرف بڑھنے کے خوفناک نتائج دکھا کر لوگوں كو دین کے راستے سے ہٹا دیں۔ یہ لوگ مخالفین کی قوت كو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان مرعوب ہوجائیں۔ مگر اس قسم کی باتیں اہل ایمان کے حق میں مفید ثابت ہوتی ہیں۔ کیوں کہ ان کا یہ یقین از سر نو زندہ ہوجاتا ہے کہ مشکل حالات میںان کا خداا نھیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

احد کی جنگ مدینہ سے تقریباً دو میل کے فاصلے پر ہوئی۔ جنگ کے بعد کافروں کا لشکر ابو سفیان کی قیادت میں واپس روانہ ہوا۔ مدینہ سے آٹھ میل پر حمراء الاسد پہنچ کر انھوں نے پڑاؤ ڈالا۔ یہاں ان کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ احد سے واپس ہو کر انھوں نے غلطی کی ہے۔ یہ بہترین موقع تھا کہ مدینہ تک مسلمانوں کا پیچھا کیا جاتا اور ان کی طاقت کا آخری طورپر خاتمہ کردیا جاتا۔ اس درمیان میںان کو قبیلہ عبد القیس کا ایک تجارتی قافلہ مل گیا جو مدینہ جارہا تھا۔ کافروں نے اس قافلہ کو کچھ رقم دے کر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ پہنچ کر ایسی خبریں پھیلائے جس سے مسلمان ڈر جائیں۔ چنانچہ قافلہ والوں نے مدینہ پہنچ کر کہنا شروع کیا کہ ہم دیکھ آئیں ہیں کہ مکہ والے بھاری لشکر جمع کررہے ہیںاور وه دوبارہ مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ مگر مسلمانوں کا اللہ پر بھروسہ اس بات کی ضمانت بن گیا کہ کافروں کی تدبیر الٹی پڑجائے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمان اپنے دشمنوں کے ارادہ سے باخبر ہوگئے۔ قبل اس کے کہ مکہ والوں کی فوج مدینہ کی طرف چلے وہ خود پیغمبر کی رہنمائی میںاپنی جمعیت بنا کر تیزی سے حمراء الاسد کی طرف روانہ ہوگئے۔ مکہ والوں کو جب یہ خبر ملی کہ مسلمانوں کی فوج اقدام کرکے ان کی طرف آرہی ہے تو وہ سمجھے کہ مسلمانوںکو نئی کمک مل گئی ہے۔ وہ گھبرا کر مکہ کی طرف واپس چلے گئے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة