تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
١٧١:٣
۞ يستبشرون بنعمة من الله وفضل وان الله لا يضيع اجر المومنين ١٧١
۞ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍۢ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَضْلٍۢ وَأَنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ١٧١
۞ يَسۡتَبۡشِرُونَ
بِنِعۡمَةٖ
مِّنَ
ٱللَّهِ
وَفَضۡلٖ
وَأَنَّ
ٱللَّهَ
لَا
يُضِيعُ
أَجۡرَ
ٱلۡمُؤۡمِنِينَ
١٧١
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات

آیت 171 یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍلا وَّاَنَّ اللّٰہَ لاَ یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ اب آگے جو آیات آرہی ہیں ان کے بارے میں تاریخ و سیرت کی کتابوں میں دو قسم کی روایات آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ کفار کی فوج کے واپس چلے جانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے بعض ضروری امور نمٹائے اور شہداء کی تدفین کی۔ اس کے بعد آپ ﷺ کو اچانک خیال آیا کہ یہ کفار چلے تو گئے ہیں ‘ لیکن ہوسکتا ہے انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو کہ اس وقت تو مسلمان اس حالت میں تھے کہ ہم انہیں ختم کرسکتے تھے ‘ لہٰذا وہ کہیں دوبارہ پلٹ کر حملہ آور نہ ہوجائیں۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو قریش کے تعاقب کے لیے تیار ہوجانے کا حکم دیا ‘ تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ ہم نے ہمت نہیں ہاردی۔ اس کے باوجود کہ اہل ایمان کے جسم زخموں سے چور چور تھے ‘ اتنا بڑا صدمہ پہنچا تھا ‘ وہ پھر تیار ہوگئے اور حضور ﷺ جان نثاروں کی ایک جماعت کے ساتھ کفار کے تعاقب میں حمراء الاسد تک گئے جو مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر ہے۔ ادھر ابوسفیان کو واقعتا اپنی غلطی کا احساس ہوچکا تھا اور وہ مقام روحاء پر رک کر اپنی فوج کی ازسرنو تنظیم کر کے واپس پلٹ کر مدینہ پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کر رہا تھا۔ ادھر سے آنے والے ایک تاجر سے اس نے کہا بھی تھا کہ جا کر مسلمانوں کو بتادو کہ میں بہت بڑا لشکر لے کر دوبارہ آ رہا ہوں۔ لیکن جب ابوسفیان نے دیکھا کہ مسلمانوں کے عزم و حوصلہ میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور وہ ان کے تعاقب میں آ رہے ہیں تو ارادہ بدل لیا اور لشکرکو مکہ کی طرف کوچ کا حکم دے دیا۔اسی طرح کا ایک اور واقعہ بیان ہوتا ہے کہ ابوسفیان جاتے ہوئے یہ کہہ گیا تھا کہ اب اگلے سال بدر میں دوبارہ ملاقات ہوگی۔ یعنی ایک سال پہلے بدر میں جنگ ہوئی تھی ‘ اب احد میں ہمارا مقابلہ ہوگیا۔ اب اگلے سال پھر ہمارے اور تمہارے درمیان تیسرا مقابلہ بدر میں ہوگا۔ چناچہ اگلے سال رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام رض کو لے کر بدر تک گئے۔ یہ مہم بدرصغریٰکہلاتی ہے۔ ادھر سے ابوسفیان پورے لاؤ لشکر کے ساتھ آگیا اور اس مرتبہ بھی کچھ لوگوں کے ذریعہ سے اہل ایمان میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی کہ لوگو کیا کر رہے ہو ‘ قریش تو بہت بڑا لشکر لے کر آ رہے ہیں ‘ تم اس کا مقابلہ نہ کر پاؤ گے ! تو اس کے جواب میں مسلمانوں نے صبر و توکل کا مظاہرہ کیا اور وہ کلمات کہے جو آگے آ رہے ہیں۔ تو یہ آیات دونوں واقعات پر منطبق ہوسکتی ہیں۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة