تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
١١:٤٩
يا ايها الذين امنوا لا يسخر قوم من قوم عسى ان يكونوا خيرا منهم ولا نساء من نساء عسى ان يكن خيرا منهن ولا تلمزوا انفسكم ولا تنابزوا بالالقاب بيس الاسم الفسوق بعد الايمان ومن لم يتب فاولايك هم الظالمون ١١
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا يَسْخَرْ قَوْمٌۭ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُونُوا۟ خَيْرًۭا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَآءٌۭ مِّن نِّسَآءٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُنَّ خَيْرًۭا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا۟ بِٱلْأَلْقَـٰبِ ۖ بِئْسَ ٱلِٱسْمُ ٱلْفُسُوقُ بَعْدَ ٱلْإِيمَـٰنِ ۚ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ١١
يَٰٓأَيُّهَا
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
لَا
يَسۡخَرۡ
قَوۡمٞ
مِّن
قَوۡمٍ
عَسَىٰٓ
أَن
يَكُونُواْ
خَيۡرٗا
مِّنۡهُمۡ
وَلَا
نِسَآءٞ
مِّن
نِّسَآءٍ
عَسَىٰٓ
أَن
يَكُنَّ
خَيۡرٗا
مِّنۡهُنَّۖ
وَلَا
تَلۡمِزُوٓاْ
أَنفُسَكُمۡ
وَلَا
تَنَابَزُواْ
بِٱلۡأَلۡقَٰبِۖ
بِئۡسَ
ٱلِٱسۡمُ
ٱلۡفُسُوقُ
بَعۡدَ
ٱلۡإِيمَٰنِۚ
وَمَن
لَّمۡ
يَتُبۡ
فَأُوْلَٰٓئِكَ
هُمُ
ٱلظَّٰلِمُونَ
١١
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
ہر طعنہ باز عیب جو مجرم ہے ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کو حقیر و ذلیل کرنے اور ان کا مذاق اڑانے سے روک رہا ہے، حدیث شریف میں ہے تکبر حق سے منہ موڑ لینے اور لوگوں کو ذلیل و خوار سمجھنے کا نام ہے ۔ [صحیح مسلم:91] ‏

اس کی وجہ قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی کہ ” جسے تم ذلیل کر رہے ہو جس کا تم مذاق اڑا رہے ہو ممکن ہے کہ اللہ کے نزدیک وہ تم سے زیادہ باوقعت ہو “۔

مردوں کو منع کر کے پھر خاصتہً عورتوں کو بھی اس سے روکا اور اس ملعون خصلت کو حرام قرار دیا، چنانچہ قرآن کریم کا ارشاد ہے «وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ» [104-الهمزة:1] ‏ یعنی ” ہر طعنہ باز عیب جو کے لیے خرابی ہے “۔

«هُمَزَ» فعل سے ہوتا ہے اور «لُّمَزَةِ» قول سے۔

ایک اور آیت میں ہے «هَمَّازٍ مَّشَّاءٍ بِنَمِيمٍ» [68-القلم:11] ‏ یعنی ” وہ جو لوگوں کو حقیر گنتا ہو۔ “ ان پر چڑھا چلا جا رہا ہو اور لگانے بجھانے والا ہو غرض ان تمام کاموں کو ہماری شریعت نے حرام قرار دیا۔

یہاں لفظ تو یہ ہیں کہ اپنے آپ کو عیب نہ لگاؤ مطلب یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ، جیسے فرمایا: «وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُمْ رَ‌حِيمًا» [4-النساء:29] ‏ یعنی ” ایک دوسرے کو قتل نہ کرو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر نہایت مہربان ہے“۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، سعید بن جبیر، قتادہ، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کو طعنے نہ دے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:391/11:] ‏

پھر فرمایا کسی کو چڑاؤ مت! جس لقب سے وہ ناراض ہوتا ہو اس لقب سے اسے نہ پکارو، نہ اس کو برا نام دو۔ مسند احمد میں ہے کہ یہ حکم بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے میں آئے تو یہاں ہر شخص کے دو دو تین تین نام تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کسی کو کسی نام سے پکارتے تو لوگ کہتے، یا رسول اللہ ! یہ اس سے چڑتا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری ۔ [سنن ابوداود:4962،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر فرمان ہے کہ ” ایمان کی حالت میں فاسقانہ القاب سے آپس میں ایک دوسرے کو نامزد کرنا نہایت بری بات ہے اب تمہیں اس سے توبہ کرنی چاہیئے ورنہ ظالم گنے جاؤ گے “۔

صفحہ نمبر8668
Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة