تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
١٢٩:٤
ولن تستطيعوا ان تعدلوا بين النساء ولو حرصتم فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقة وان تصلحوا وتتقوا فان الله كان غفورا رحيما ١٢٩
وَلَن تَسْتَطِيعُوٓا۟ أَن تَعْدِلُوا۟ بَيْنَ ٱلنِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا۟ كُلَّ ٱلْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَٱلْمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِن تُصْلِحُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورًۭا رَّحِيمًۭا ١٢٩
وَلَن
تَسۡتَطِيعُوٓاْ
أَن
تَعۡدِلُواْ
بَيۡنَ
ٱلنِّسَآءِ
وَلَوۡ
حَرَصۡتُمۡۖ
فَلَا
تَمِيلُواْ
كُلَّ
ٱلۡمَيۡلِ
فَتَذَرُوهَا
كَٱلۡمُعَلَّقَةِۚ
وَإِن
تُصۡلِحُواْ
وَتَتَّقُواْ
فَإِنَّ
ٱللَّهَ
كَانَ
غَفُورٗا
رَّحِيمٗا
١٢٩
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 4:127إلى 4:130

پوچھنے والوں نے بعض معاشرتی امور کی بابت شرعی حکم دریافت کیا تھا۔ اس سلسلے میں حکم بتاتے ہوئے خیر وانصاف اور صلاح وتقویٰ پر زور دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی قانون اسی وقت اپنے مقصد کو پورا کرتا ہے جب کہ اس کو عمل میں لانے والا آدمی اللہ سے ڈرتا ہو اور فی الواقع انصاف کا طالب ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو قانون کی ظاہری تعمیل کے باوجود حقیقی بہتری پیدا نہیں ہوسکتی۔ معاشرہ کی واقعی اصلاح صرف اس وقت ہوتی ہے جب کہ برائی کرنے والا برائی سے اس ليے ڈرے کہ اصل معاملہ خدا سے ہے اور برائی کرنے کے بعد میں کسی طرح اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ اسی طرح بھلائی کرنے والا یہ سوچے کہ لوگوں کی طرف سے خواہ مجھے اس کا کوئی صلہ نہ ملے مگر اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور وہ ضرور مجھ کو اس کا انعام دے گا۔ جہنم کا اندیشہ آدمی کو ظلم سے روکتا ہے اور جنت کی امید اس نقصان کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کردیتی ہے جو حق پرستانہ زندگی کے نتیجہ میں لازماً سامنے آتا ہے۔

میاں بیوی یادو آدمیوں میں اختلاف کی وجہ ہمیشہ حرص ہوتی ہے۔ ایک فریق دوسرے فریق کا لحاظ كيے بغیر صرف اپنے مطالبات کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ یہ ذہنیت ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے غیر مطمئن بنا دیتی ہے۔ صحیح مزاج یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی معذوری کو سمجھیں اور ایک دوسرے کی رعایت کرتے ہوئے کسی باہمی تصفیہ پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ اللہ کا مطالبہ جس طرح یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی رعایت کرے، اسی طرح اللہ بھی اپنے بندوں کے ساتھ آخری حد تک رعایت فرماتا ہے۔ اللہ کے یہاں آدمی کی پکڑ ا س کی فطری کمزوریوں پر نہیں ہے بلکہ اس کی اس سرکشی پر ہے جو وہ جان بوجھ کر کرتا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے اور دل میں اصلاح کا جذبہ رکھے تو وہ نیت کی درستگی کے ساتھ جو کچھ کرے گا اس کے لیے وہ اللہ کے یہاں قابل معافی قرار پائے گا۔ اسی کے ساتھ آدمی کو کبھی اس غلط فہمی میں نہ پڑنا چاہیے کہ وہ دوسرے کا کام بنانے والا ہے۔ ہر ایک کا کام بنانے والا صرف اللہ ہے، خواہ وہ بظاہر ایک طرح کے حالات میں ہو یا دوسری طرح کے حالات میں۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة