تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
١٥١:٤
اولايك هم الكافرون حقا واعتدنا للكافرين عذابا مهينا ١٥١
أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰفِرُونَ حَقًّۭا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَـٰفِرِينَ عَذَابًۭا مُّهِينًۭا ١٥١
أُوْلَٰٓئِكَ
هُمُ
ٱلۡكَٰفِرُونَ
حَقّٗاۚ
وَأَعۡتَدۡنَا
لِلۡكَٰفِرِينَ
عَذَابٗا
مُّهِينٗا
١٥١
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 4:148إلى 4:152

کسی شخص کے اندر کوئی دینی یا دنیوی عیب معلوم ہو تو اس کو شہرت دینا اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ نصیحت کا حق ہر ایک کو ہے۔ مگر نصیحت یا تو کسی کا نام لیے بغیر عمومی انداز میں کی جانی چاہیے یا متعلقہ شخص سے مل کر تنہائی میں۔ اللہ صبح وشام لوگوں کے جرائم نظر انداز کرتا رہتا ہے۔ بندوں کو بھی اپنے اندر یہی اخلاق پیدا کرنا ہے۔ البتہ اگر ایک شخص مظلوم ہو تو اس کے لیے رخصت ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کو لوگوں کے سامنے بیان کرے۔ تاہم مظلوم اگر صبر کرے اور ظلم کرنے والے کو معاف کردے تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ کیوںکہ اس طرح وہ ثابت کرتا ہے کہ اس کو دنیا کے نقصان سے زیادہ آخرت کے نقصان کی فکر ہے۔ جو شخص کسی بڑے غم میں مبتلا ہو اس کے ليے چھوٹے غم بے حقیقت ہوجاتے ہیں۔ یہی حال اس شخص کا ہوتا ہے جس کے دل میں آنے والے ہولناک دن کا غم سمایا ہوا ہو۔

مکہ کے لوگ حضرت ابراہیم کی نبوت کو مانتے تھے۔ اسی طرح یہودی حضرت موسیٰ کی نبوت کو تسلیم کرتے تھے اور مسیحی حضرت عیسیٰ کی نبوت کو ۔ مگر ان سب نے پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو ماننے سے انکار کردیا۔ ان میں سے ہر ایک ماضی کے پیغمبر کو ماننے کے لیے تیار تھا مگر ان میں سے کوئی بھي وقت کے پیغمبر کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ حالاں کہ جن نبیوں کو وہ مان رہے تھے وہ بھی اپنے زمانہ میں اسی قسم کے مخالفانہ رد عمل سے دوچار ہوئے تھے جس سے پیغمبر عربی کو دوچار ہونا پڑا — اس قسم کی ہر کوشش حق پرستی اور نفس پرستی کے درمیان راستہ نکالنے کے لیے ہوتی ہے تاکہ خواہشات کا ڈھانچہ بھی ٹوٹنے نہ پائے اور آدمی خدا کی جنت تک پہنچ جائے۔

اصل یہ ہے کہ ماضی کی نبوت ایک مانی ہوئی نبوت ہوتی ہے جب کہ وقت کے پیغمبر کو ماننے کے لیے آدمی کو نیا ذہنی سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ ماضی کی نبوت زمانہ گزرنے کے بعد ایک تسلیم شدہ نبوت بن جاتی ہے۔ وہ پیدائشی طورپر آدمی کے ذہن کا جز بن چکی ہوتی ہے۔ مگر زمانهٔ حال کا پیغمبر ایک متنازعہ شخصیت ہوتا ہے، وہ دیکھنے والوں کو محض ’’ایک انسان‘‘ دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے اس کو ماننے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی ایک نیا ذہنی سفر کرے۔ وہ خدا کو دوبارہ شعور کی سطح پر پائے۔ ماضی کے پیغمبر کو ماننا تقلیدی ایمان کے تحت ہوتا ہے اور وقت کے پیغمبر کو ماننا ارادی ایمان کے تحت۔ مگر اللہ کے یہاں قیمت ارادی ایمان کی ہے، نہ کہ تقلیدی ایمان کی۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة