تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٤١:٤
فكيف اذا جينا من كل امة بشهيد وجينا بك على هاولاء شهيدا ٤١
فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍۭ بِشَهِيدٍۢ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَـٰٓؤُلَآءِ شَهِيدًۭا ٤١
فَكَيۡفَ
إِذَا
جِئۡنَا
مِن
كُلِّ
أُمَّةِۭ
بِشَهِيدٖ
وَجِئۡنَا
بِكَ
عَلَىٰ
هَٰٓؤُلَآءِ
شَهِيدٗا
٤١
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 4:41إلى 4:43

حق کا داعی جب آتا ہے تو وہ ایک معمولی انسان کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے گرد ظاہری بڑائیاں اور رونقیں جمع نہیں ہوتیں۔ اس لیے وقت کے بڑے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ ایک ایسا شخص بھی ان سے زیادہ حق وصداقت والا ہوسکتا ہے جو دنیوی شان وشوکت میںان سے کم ہو۔ مگر جب قیامت آئے گی اور خدا کی عدالت قائم ہوگی تو وہ حیرت کے ساتھ دیکھیں گے کہ وہی شخص جس کو انھوں نے بے قیمت سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا وہ آخرت کی عدالت میں خدائی گواہ بنادیاگیا ہے۔ وہی وہ شخص ہے جس کے بیان پر لوگوں کے لیے جنت اور جہنم کے فیصلے ہوں۔ یہ وہاں مجرم کے مقام پر کھڑے ہوں گے اور وہ خدا کی طرف سے بولنے والے کے مقام پر۔ یہ ایسا سخت اور ہولناک لمحہ ہوگا کہ لوگ چاہیں گے کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس کے اندر سما جائیں۔ مگر ان کی یہ شرمندگی ان کے کام نہ آئے گی۔خدا کے یہاں ان کے قول و عمل سے لے کر ان کی سوچ تک کا ریکارڈ موجود ہوگااور خدا انھیں دکھا دے گا کہ حق کے داعی کا انکار جو انھوں نے کیا وہ ناواقفیت کے سبب سے نہ تھا بلکہ گھمنڈ کی وجہ سے تھا۔ انھوںنے اپنے کو بڑا سمجھا اور داعیٔ حق کو چھوٹا جانا۔ حقیقت کو اس کی برہنہ صورت میں دیکھنے اور جاننے کے باوجود محض اس لیے اس کے منکر ہوگئے کہ اس کو ماننے میں ان کی اپنی بڑائی ختم ہوتی ہوئی نظر آتی تھی۔

شریعت میں غیر معمولی حالات میںغیر معمولی رخصت دی گئی ہے۔ مرض یا سفر یا پانی کا نہ ہونا یہ تینوں آدمی کے لیے غیر معمولی حالتیں ہیں۔ اس ليےان مواقع پر یہ رخصت دی گئی کہ اگر نقصان کا اندیشہ ہو تو وضو یا غسل کے بجائے تیمم کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ عام وضو پانی سے ہوتا ہے۔ تیمم گویا مٹی سے وضو کرنا ہے۔ وضو کا مقصد آدمی کے اندر پاکی کی نفسیات پیدا کرنا ہے اور تیمم، وضو نہ کرسکنے کی صورت میں، اس پاکی کی نفسیات کو باقی رکھنے کی ایک مادی تدبیر ہے۔

’’نماز اس وقت پڑھو جب کہ تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو‘‘ —یہاں یہ آیت شراب کا ابتدائی حکم بتانے کے لیے آئی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ نماز کے بارے میں ایک اہم حقیقت کو بھی بتارہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جو فہم وشعور کے تحت ادا کی جاتی ہے۔ نماز محض اس کا نام نہیں ہے کہ کچھ الفاظ اور کچھ حرکات کو صحتِ ادا کے ساتھ دہرایا جائے۔ اسی کے ساتھ نماز میں آدمی کے ذہن کا حاضر رہنا بھی ضروری ہے۔ وہ نماز کو جان کر نماز پڑھے، اپنی زبان اور اپنے جسم سے وہ جس خدا کے سامنے جھکنے کا ارادہ کررہا ہے، اسی خدا کے سامنے اس کی سوچ اور اس کا ارادہ بھی جھک گیا ہو۔ اس کا جسم جس خدا کی عبادت کررہا ہے، اسکا شعور بھی اسی خدا کا عبادت گزار بن جائے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة