تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٨٧:٤
الله لا الاه الا هو ليجمعنكم الى يوم القيامة لا ريب فيه ومن اصدق من الله حديثا ٨٧
ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۗ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ ٱللَّهِ حَدِيثًۭا ٨٧
ٱللَّهُ
لَآ
إِلَٰهَ
إِلَّا
هُوَۚ
لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ
إِلَىٰ
يَوۡمِ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
لَا
رَيۡبَ
فِيهِۗ
وَمَنۡ
أَصۡدَقُ
مِنَ
ٱللَّهِ
حَدِيثٗا
٨٧
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 4:84إلى 4:87

دین داری کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی عملی طورپر جہاں ہے وہیں رہے، وہ اپنی حقیقی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔ البتہ کچھ اوپری مظاہر کا اہتمام کرکے سمجھے کہ میں دین دار بن گیا ہوں۔ ایسے دین سے کسی کو ضد نہیں ہوتی۔ لوگ اس کی مخالفت کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ مگر جب دین کے ایسے تقاضے پیش كيے جائیں جو قربانی کا مطالبہ کرتے ہوں، جس میںآدمی کو اپنی بنی بنائی زندگی اجاڑنا پڑے تو اس کے سامنے آنے کے بعد لوگوں میں دو فریق ہوجاتے ہیں۔ ایک طبقہ دعوت کے مخالفین کا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سستے مظاہر کے ذریعہ اپنی دین داری کا سکہ قائم كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ قربانی والے دین کے مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ ایسے دین کو اختیار کرنا ان کو برتری کے مقام سے اترنے کے ہم معنی نظر آتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہوتا ہے جس کی فطرت زندہ ہوتی ہے۔ وہ چیزوں کو مفاد اور مصلحت سے اوپر اٹھ کر دیکھتا ہے۔ ایک بات کا حق ثابت ہوجانا ہی اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرلے۔ یہ صورت حال کبھی اتنی سنگین ہوجاتی ہے کہ حق کی تائید وحمایت میں زبان کھولنا جہاد کے ہم معنی بن جاتاہے۔ اس کے برعکس، حق کے بارے میں خاموشی یا مخالفت کا رویہ اختیار کرنا آدمی کو انعام کا مستحق بنا دیتا ہے۔تاہم جہاں تک سچے اہل ایمان کا تعلق ہے ان کو ہر حال میں یہ حکم ہے کہ عام معاشرتی تعلقات کو اس اختلاف سے متاثر نہ ہونے دیں۔ اور ان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار نہ کریں۔ مسلمان کا رویہ دوسروں کے رد عمل میں نہیں بننا چاہیے بلکہ اس قسم کی چیزوں کو نظر انداز کرکے بننا چاہیے۔ یہ معاملہ اللہ سے متعلق ہے کہ وہ کس کو کیا بدلہ دے اور کسی کے لیے کیا فیصلہ کرے۔

نازک حالات میں دعوت حق کو زندہ رکھنے کی ضمانت صرف یہ ہوتی ہے کہ کم از کم داعی اپنی ذات کی سطح پر یہ عزم رکھے کہ وہ ہر حال میں اپنے موقف پر قائم رہے گا خواہ کوئی تائید کرنے والا ہو یا نہ ہو۔ایسے حالات میں داعی کا عزم اس کو اللہ کی خصوصی نصرت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال بدر صغریٰ کا غزوہ ہے جو احد کے صرف ایک ماہ بعد پیش آیا۔ اس وقت مدینہ میں ایسی کیفیت چھائی ہوئی تھی کہ صرف ستر آدمی رسول اللہ کے ساتھ نکلے۔ مگر اس مختصر قافلہ کو اللہ کی یہ خصوصی مدد ملی کہ مکہ والوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ مقابلہ میں نہ آسکے۔ خدا کی سنت ہے کہ وہ منکرین کا زورتوڑے۔ مگر خدا کی یہ سنت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ دین کے علم بردار اپنی بے سروسامانی کے باوجود خدا کے دشمنوں کا زور توڑنے کے لیے نکل پڑے ہوں۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة