تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٥:٥
اليوم احل لكم الطيبات وطعام الذين اوتوا الكتاب حل لكم وطعامكم حل لهم والمحصنات من المومنات والمحصنات من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم اذا اتيتموهن اجورهن محصنين غير مسافحين ولا متخذي اخدان ومن يكفر بالايمان فقد حبط عمله وهو في الاخرة من الخاسرين ٥
ٱلْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَـٰتُ ۖ وَطَعَامُ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ حِلٌّۭ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّۭ لَّهُمْ ۖ وَٱلْمُحْصَنَـٰتُ مِنَ ٱلْمُؤْمِنَـٰتِ وَٱلْمُحْصَنَـٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَـٰفِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِىٓ أَخْدَانٍۢ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِٱلْإِيمَـٰنِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُۥ وَهُوَ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ مِنَ ٱلْخَـٰسِرِينَ ٥
ٱلۡيَوۡمَ
أُحِلَّ
لَكُمُ
ٱلطَّيِّبَٰتُۖ
وَطَعَامُ
ٱلَّذِينَ
أُوتُواْ
ٱلۡكِتَٰبَ
حِلّٞ
لَّكُمۡ
وَطَعَامُكُمۡ
حِلّٞ
لَّهُمۡۖ
وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ
مِنَ
ٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ
وَٱلۡمُحۡصَنَٰتُ
مِنَ
ٱلَّذِينَ
أُوتُواْ
ٱلۡكِتَٰبَ
مِن
قَبۡلِكُمۡ
إِذَآ
ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ
أُجُورَهُنَّ
مُحۡصِنِينَ
غَيۡرَ
مُسَٰفِحِينَ
وَلَا
مُتَّخِذِيٓ
أَخۡدَانٖۗ
وَمَن
يَكۡفُرۡ
بِٱلۡإِيمَٰنِ
فَقَدۡ
حَبِطَ
عَمَلُهُۥ
وَهُوَ
فِي
ٱلۡأٓخِرَةِ
مِنَ
ٱلۡخَٰسِرِينَ
٥
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات

آیت 5 اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ط یہ وہی اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ۔۔ والا انداز ہے۔ یعنی اس سے پہلے اگر مختلف مذاہب کے احکام کی وجہ سے ‘ یہود کی شریعت یا حضرت یعقوب علیہ السلام کی ذاتی پسند و ناپسند کی بنا پر اگر کوئی رکاوٹیں پیدا ہوگئی تھیں یا معاشرے میں رائج مشرکانہ رسومات و اوہام کی وجہ سے تمہارے ذہنوں میں کچھ الجھنیں تھیں تو آج ان سب کو صاف کیا جا رہا ہے اور آج تمہارے لیے تمام صاف ستھری اور پاکیزہ چیزوں کے حلال ہونے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔وَطَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ ۔لیکن یہ صرف اس صورت میں ہے کہ وہ کھانا اصلاً حلال ہو ‘ کیونکہ اگر ایک عیسائیُ سؤر کھا رہا ہوگا تو وہ ہمارے لیے حلال نہیں ہوگا۔ اس کھانے میں ان کا ذبیحہ بھی شامل ہے ‘ دو بنیادی شرائط کے ساتھ : ایک یہ کہ جانور حلال ہو اور دوسرے یہ کہ اسے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو۔ وَطَعَامُکُمْ حِلُّ لَّہُمْ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ یعنی مسلمان مرد عیسائی یا یہودی عورت سے شادی کرسکتا ہے۔ اِذَآ اٰتَیْتُمُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ مُحْصِنِیْنَ نیت یہ ہو کہ تم نے ان کو اپنے گھر میں بسانا ہے ‘ مستقل طور پر ایک خاندان کی بنیاد رکھنی ‘ ہے۔ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَلاَ مُتَّخِذِیْٓ اَخْدَانٍ ط بلکہ معروف طریقے سے علی الاعلان نکاح کر کے تم انہیں اپنے گھروں میں آباد کرو اور ان کے محافظ بنو۔ اس ضمن میں بعض اشکالات کا رفع کرنا ضروری ہے۔ جہاں تک شریعت اسلامی کا حکم ہے تو شریعت رسول اللہ ﷺ پر مکمل ہوچکی ہے ‘ اب اس میں تغیر و تبدل ممکن نہیں۔ اس لحاظ سے یہ قانون اپنی جگہ قائم ہے اور قائم رہے گا۔ یہ تو ہے اس کا جواز ‘ البتہ اگر آج اس کے خلاف کسی کو کوئی مصلحت نظر آتی ہے تو وہ اپنی جگہ درست ہوسکتی ہے ‘ لیکن اس کے باوجود قانون کو بدلا نہیں جاسکتا۔ البتہ اگر ایک خالص اسلامی ریاست ہو تو حالات کی سنگینی کے پیش نظر کچھ عرصے کے لیے کسی ایسی اجازت یا حکم کو موقوف کیا جاسکتا ہے۔ جیسے حضرت عمر رض نے ایک مرتبہ اپنے زمانے میں قحط کے سبب قطع ید ہاتھ کاٹنے کی سزا کو موقوف کردیا تھا۔ اس طرح کسی قانون میں اسلامی حکومت کے کسی عارضی انتظامی حکم Executive Order کے ذریعے سے کوئی عارضی تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ مزیدبرآں اس اجازت کے پس منظر میں جو فلسفہ اور حکمت ہے اس کی اصل روح کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہ اجازت صرف مسلمان مردوں کو دی گئی ہے کہ وہ عیسائی یا یہودی عورتوں سے شادی کرسکتے ہیں ‘ مسلمان عورت عیسائی یا یہودی مرد سے شادی نہیں کرسکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام طور پر مرد عورت پر غالب ہوتا ہے ‘ لہٰذا امکان غالب ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اسلام کی طرف راغب کرلے گا۔ دوسرے یہ کہ اس زمانے میں یہّ بات مسلمہ تھی کہ اولاد مرد کی ہے ‘ اور مرد کے غالب اور فعالّ ہونے کا مطلب تھا کہ ایسے میاں بیوی کی اولاد عیسائی یا یہودی نہیں بلکہ مسلمان ہوگی۔ اس وقت ویسے بھی مسلمانوں کا غلبہ تھا اور یہودی اور عیسائی ان کے تابع ہوچکے تھے۔ آج کل حالات یکسر تبدیل ہوچکے ہیں۔ آج عیسائی اور یہودی غالب ہیں ‘ جبکہ مسلمان انتہائی مغلوب۔ دوسری طرف بین الاقوامی سیاست میں عورتوں کا غلبہ ہے۔ لہٰذا موجودہ حالات میں مصلحت کا تقاضا یہی ہے کہ ایسی شادیاں نہ ہوں ‘ لیکن بہرحال ان کو حرام نہیں کہا جاسکتا ‘ کیونکہ اس کے جواز کا واضح حکم موجود ہے۔ ہاں اگر کوئی اسلامی ریاست کہیں قائم ہوجائے تو وہ عارضی طور پر جب تک حالات میں کوئی تبدیلی نہ آجائے اس اجازت کو منسوخ کرسکتی ہے۔ وَمَنْ یَّکْفُرْ بالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ ز اس میں اشارہ اہل کتاب کی طرف بھی ہوسکتا ہے کہ جب تکٌ محمد رسول اللہ ﷺ تشریف نہیں لائے تھے تب تک وہ اہل ایمان تھے لیکن اب اگر وہ نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان نہیں لا رہے تو گویا وہ کفر کر رہے ہیں۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص ایمان کا مدعی ہو کر کافرانہ حرکتیں کرے تو اس کے تمام اعمال ضائع ہوجائیں گے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة