تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٥٣:٥
ويقول الذين امنوا اهاولاء الذين اقسموا بالله جهد ايمانهم انهم لمعكم حبطت اعمالهم فاصبحوا خاسرين ٥٣
وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَهَـٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَـٰنِهِمْ ۙ إِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ ۚ حَبِطَتْ أَعْمَـٰلُهُمْ فَأَصْبَحُوا۟ خَـٰسِرِينَ ٥٣
وَيَقُولُ
ٱلَّذِينَ
ءَامَنُوٓاْ
أَهَٰٓؤُلَآءِ
ٱلَّذِينَ
أَقۡسَمُواْ
بِٱللَّهِ
جَهۡدَ
أَيۡمَٰنِهِمۡ
إِنَّهُمۡ
لَمَعَكُمۡۚ
حَبِطَتۡ
أَعۡمَٰلُهُمۡ
فَأَصۡبَحُواْ
خَٰسِرِينَ
٥٣
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 5:51إلى 5:53

عرب میں مسلمان ابھی ایک نئی طاقت کی حیثیت رکھتے تھے۔ مزید یہ کہ ان کے مخالفین ان کو اکھاڑنے کی کوشش میں رات دن لگے ہوئے تھے۔ دوسری طرف عرب کے یہودی اور عیسائی قبائل کا یہ حال تھا کہ وهاں کے بیشتر اقتصادی وسائل پر ان کا قبضہ تھا۔ صدیوں کی تاریخ نے ان کی عظمت لوگوں کے دلوںپر بٹھا رکھی تھی۔ لوگوں کو یقین نہیں تھا کہ ایسی طاقت کو ملک سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی جماعت میں جو کمزور لوگ تھے وہ چاہتے تھے کہ اسلام کی جدوجہد میں اس طرح شریک نہ ہوں کہ یہود ونصاریٰ کو اپنا دشمن بنالیں۔ تاکہ یہ کش مکش اگر مسلمانوں کی شکست پر ختم ہوتو یہود ونصاریٰ کی طرف سے انھیں کسی انتقامی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ لوگ مستقبل کے موہوم خطرہ سے بچنے کے لیے اپنے کو وقت کے یقینی خطرہ میں مبتلا کررہے تھے، اور وہ ان کی دہری وفاداری تھی۔ جو شخص بے ضرر معاملات میں حق پرست بنے اور ضرر کا اندیشہ ہوتو باطل پرستوں کا ساتھ دینے لگے، اس کا انجام خدا کے یہاں انھیں لوگوں میں ہوگا جن کا اس نے خطرہ کے مواقع پر ساتھ دیا۔

کسی کی زندگی میں وہ وقت بڑا نازک ہوتا ہے جب کہ اسلام پر قائم رہنے کے لیے اس کو کسی قسم کی قربانی دینی پڑے۔ ایسے مواقع آدمی کے اسلام کی تصدیق یا تردید کرنے کے لیے آتے ہیں۔ خدا چاہتا ہے کہ آدمی جس اسلام کا ثبوت بے خطر حالات میں دے رہا تھا اسی اسلام کا ثبوت وہ اس وقت بھی دے جب کہ جذبات کو دبا کر یا جان ومال کا خطرہ مول لے کر آدمی اپنے اسلام کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ اس امتحان میں پورا اترنے کے بعد ہی آدمی اس قابل بنتا ہے کہ اس کا خدا اس کو اپنے وفادار بندوں میں لکھ لے۔ ان مواقع پر استقامت کا ثبوت دینا ہی کسی آدمی کے پچھلے اعمال کو باقیمت بناتا ہے۔ اور اگر وہ ایسے مواقع پر استقامت کا ثبوت نہ دے سکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے پچھلے تمام اعمال کو بے قیمت کرلیا۔

دنیا کا ہر امتحان ارادہ کا امتحان ہے۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خطرات کو نظر انداز کرکے ارادہ کا ثبوت دے دے، وہ اللہ کی طرف اپنا پہلا قدم اٹھا دے۔ اس کے بعد فوراً خدا کی مدد اس کا سہارا بن جاتی ہے۔ مگر جو شخص ارادہ کا ثبوت نہ دے، جو خدا کی طرف اپنا پہلا قدم نہ اٹھائے وہ اللہ کی نظر میں ظالم ہے۔ ایسے لوگوں کو خدا یک طرفہ طورپر اپنی مدد کا سہارا نہیں بھیجتا۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة