تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٥٥:٥
انما وليكم الله ورسوله والذين امنوا الذين يقيمون الصلاة ويوتون الزكاة وهم راكعون ٥٥
إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُمْ رَٰكِعُونَ ٥٥
إِنَّمَا
وَلِيُّكُمُ
ٱللَّهُ
وَرَسُولُهُۥ
وَٱلَّذِينَ
ءَامَنُواْ
ٱلَّذِينَ
يُقِيمُونَ
ٱلصَّلَوٰةَ
وَيُؤۡتُونَ
ٱلزَّكَوٰةَ
وَهُمۡ
رَٰكِعُونَ
٥٥
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 5:54إلى 5:56

ایمان لانے کے بعد جو شخص ایمان کے تقاضے پورے نہ کرے وہ اللہ کی نظر میں دین کو قبول کرنے کے بعد دین سے پھر گیا۔ اللہ کی نظر میں سچے ایمان والے لوگ وہ ہیں جن کے اندر ایمان اس طرح داخل ہو کہ ان کو محبت کی سطح پر اللہ سے تعلق پیدا ہوجائے، ان کو اسلامی مقاصد کی تکمیل اتنی عزیز ہو کہ جو لوگ اسلام کی راہ میں ان کے بھائی بنیں ان کے لیے ان کے دل میں نرمی اور ہمدردی کے سوا کوئی اور چیز باقی نہ رہے۔ وہ مسلمانوں کے لیے اس درجہ شفیق بن جائیں کہ ان کی طاقت اور ان کی صلاحیت کبھی مسلمانوں کے مقابلہ میں استعمال نہ ہو۔ وہ دین کے معاملہ میں اتنے پختہ ہوں کہ غیر اسلامی لوگوں کے افکار واعمال سے کوئی اثر قبول نہ کریں۔ ان کے جذبات اس درجہ اصول کے تابع ہوجائیں کہ حق كو قبول كرنےکے معاملے ميں وہ پھول سے زیادہ نازک ثابت ہوں مگر ناحق کے معامله ميں وہ پتھر سے زیادہ سخت بن جائیں۔ تاكه کوئی بھي ان کو اپنے بے جا مقاصد کے لیے استعمال نہ کرسکے۔

اسلامی زندگی ایک بامقصد زندگی ہے اور اسی لیے وہ جدوجہد کی زندگی ہے۔ مسلمان کامشن یہ ہے کہ وہ اللہ کے دین کو اللہ کے تمام بندوں تک پہنچائے۔جہنم کی طرف جاتی ہوئی دنیا کو جنت کے راستہ پر لانے کی کوشش کرے۔ اس کام ميںفطری طورپر آدمی كو طرح طرح کی مشكلات اور طرح طرح کي ملامت ومخالفت كاسامناهوتا هے۔ يهاں تك کہ دو الگ الگ گروہ بن جاتے ہیں۔ ایک دنیا پرستوں کا اور دوسرا آخرت کے مسافروں کا۔ ان کے درمیان ایک مستقل کش مکش شروع ہوجاتی ہے۔ آدمی کا امتحان یہ ہے کہ ان سارے مواقع پر وہ اس انسان کا ثبوت دے جو اللہ کے بھروسہ پر چل رہا ہے اور اللہ کے سوا کسی کی پروا کیے بغیر اپنا اسلامی سفر جاری رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ موت کے دروازہ میں داخل ہو کر خدا کے پاس پہنچ جاتا ہے۔

اس طرح کے لوگ کسی مقام پر جب قابل لحاظ تعداد میں پیدا ہوجائیں تو زمین کا غلبہ بھی انھیں کے لیے مقدر کردیا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں۔ یعنی ان کا مرکز توجہ تمام تر اللہ بن جاتا ہے۔ وہ زکوۃ ادا کرتے ہیں۔ یعنی ان کے باہمی تعلقات ایک دوسرے کی خیر خواہی پر قائم ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کے آگے جھکنے والے ہوتے ہیں۔ یعنی معاملات دنیا میں کوئی بھی چیز ان کو انانیت پر آمادہ نہیں کرتی بلکہ وہ ہر موقع پر وہی کرتے ہیں جو اللہ چاہے۔ وہ تواضع اختیار کرنے والے ہوتے ہیں، نہ کہ سرکشی کرنے والے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة