تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٦٣:٥
لولا ينهاهم الربانيون والاحبار عن قولهم الاثم واكلهم السحت لبيس ما كانوا يصنعون ٦٣
لَوْلَا يَنْهَىٰهُمُ ٱلرَّبَّـٰنِيُّونَ وَٱلْأَحْبَارُ عَن قَوْلِهِمُ ٱلْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ ٱلسُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا۟ يَصْنَعُونَ ٦٣
لَوۡلَا
يَنۡهَىٰهُمُ
ٱلرَّبَّٰنِيُّونَ
وَٱلۡأَحۡبَارُ
عَن
قَوۡلِهِمُ
ٱلۡإِثۡمَ
وَأَكۡلِهِمُ
ٱلسُّحۡتَۚ
لَبِئۡسَ
مَا
كَانُواْ
يَصۡنَعُونَ
٦٣
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 5:61إلى 5:63

مدینہ کے یہودیوں میں کچھ لوگ تھے جو اسلام سے ذہنی طور پر مرعوب تھے۔ نیز اسلام کا بڑھتا ہوا غلبہ دیکھ کر کھلم کھلا اس کا حریف بننا بھی نہیں چاہتے تھے۔ یہ لوگ اگر چہ اندر سے اپنے آبائی دین پر جمے ہوئے تھے مگر الفاظ بول کر ظاہر کرتے تھے کہ وہ بھی مومن ہیں۔ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ اصل معاملہ کسی انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اور خدا وہ ہے جو دلوں تک کا حال جانتا ہے۔ وہ کسی سے جو معاملہ کرے گا حقیقت کے اعتبار سے کرے گا، نہ کہ ان الفاظ کی بنا پر جو اس نے مصلحت کے طورپر اپنے منھ سے نکالا تھا۔

یہود کے خواص میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک ربّی جن کو مشائخ کہاجاسکتا ہے۔ دوسرے احبار جو اُن کے علماء اور فقہا کی مانند تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اگر چہ دین ہی کو اپنا صبح وشام کا مشغلہ بنائے ہوئے تھے۔ دین کے نام پر ان کی قیادت قائم تھی۔ اور دین ہی کے نام پر ان کو بڑی بڑی رقمیں ملتی تھی۔ مگر ان کی قیادت ومقبولیت کا راز عوام پسند دین کی نمائندگی تھی، نہ کہ خدا پسند دین کی نمائندگی۔ ان کا بولنا اور ان کاچلنا بظاہر دین کے لیے تھا۔ مگر حقیقۃً وہ ایک قسم کی دنیاداری تھی جو دین کے نام پر جاری تھی۔ وہ دین کے نام پر لوگوں کو وہی چیز دے رہے تھے جس کو وہ دین کے بغیر اپنے لیے پسند كيے ہوئے تھے۔

خدا کا پسندیدہ دین تقویٰ کا دین ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ اس کی زبان گناہ کے کلمات نہ بولے، وہ اپنی سرگرمیوں میں حرام طریقوں سے پوری طرح بچتا ہو۔ جن لوگوں سے اس کا معاملہ پیش آئے ان کے ساتھ وہ انصاف کرنے والا ہو، نہ کہ ظلم کرنے والا۔ مگر آدمی کا نفس ہمیشہ اس کو دنیا پرستی کے راستہ پر ڈال دیتاہے۔ وہ ایسی زندگی گزارنا چاہتا ہے جس میں اس کو صحیح اور غلط نہ دیکھنا ہو بلکہ صرف اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو دیکھنا ہو۔ یہود کے عوام اسی حالت پر تھے۔ اب ان کے خواص کا کام یہ تھا کہ وہ ان کو اس سے روکتے۔ مگر انھوںنے عوام سے ایک خاموش مفاہمت کرلی۔وہ عوام کے درمیان ایسا دین تقسیم کرنے لگے جس میں اپنی حقیقی زندگی کو بدلے بغیر نجات کی ضمانت ہو اور بڑے بڑے درجات طے ہوتے ہوں۔ یہ خواص اپنے عوام کی حقیقی زندگیوں کو نہ چھیڑتے البتہ ان کو ملت یہود کی فضیلت کے جھوٹے قصے سناتے۔ ان کے قومی ہنگاموں کو دین کے رنگ میں بیان کرتے۔ رسمی قسم کے اعمال دہرا دینے پر یہ بشارت دیتے کہ ان کے ذریعہ سے ان کے لیے جنت کے محل تعمیر ہورہے ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بہت برا کام ہے کہ لوگوں کے درمیان ایسا دین تقسیم کیا جائے جس میں حقیقی عملی زندگی کو بدلنا نہ ہو، البتہ کچھ نمائشی چیزوں کا اہتمام کرکے جنت کی ضمانت مل جائے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة