تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٦٥:٥
ولو ان اهل الكتاب امنوا واتقوا لكفرنا عنهم سيياتهم ولادخلناهم جنات النعيم ٦٥
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّـَٔاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَـٰهُمْ جَنَّـٰتِ ٱلنَّعِيمِ ٦٥
وَلَوۡ
أَنَّ
أَهۡلَ
ٱلۡكِتَٰبِ
ءَامَنُواْ
وَٱتَّقَوۡاْ
لَكَفَّرۡنَا
عَنۡهُمۡ
سَيِّـَٔاتِهِمۡ
وَلَأَدۡخَلۡنَٰهُمۡ
جَنَّٰتِ
ٱلنَّعِيمِ
٦٥
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 5:65إلى 5:66

تمام گمراہیوں کا اصل سبب آدمی کا ڈھیٹ ہوجانا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے تو اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگ سکتی کہ کون سی بات خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہے۔ ڈر کی نفسیات اس کے اندر سے دوسرے تمام محرکات کو حذف کردے گی اور آدمی خدا کی بات کو فوراً پہچان کر اس کو مان لے گا۔ جب آدمی اس حد تک اپنے آپ کو خدا کی طرف متوجہ کردے تو اس کے بعد وہ بھی خدا کی توجہ کا مستحق ہوجاتا ہے۔ خدا اس کی بشری کمزوریوں کو اس سے دھودیتا ہے اور مرنے کے بعد اس کو جنت کے نعمت بھرے باغوں میں جگہ دیتا ہے۔ آدمی کی برائیاں، بالفاظ دیگر اس کی نفسیاتی کمزوریاں، وہ چیزيں ہیں جو اس کو جنت کے راستہ پر بڑھنے نہیں دیتیں۔ خدا کی توفیق سے جو شخص اپنی نفسیاتی کمزوریوں پر قابو پالیتاہے وہی جنت کی منزل تک پہنچتا ہے۔

جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس سے متوحش ہوجاتے ہیں جو سابقه نظام كے تحت سرداري كا مقام حاصل كيے هوئے هوں۔ان کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کو قبول کرتے ہی ان کے معاشی مفادات اور ان کی قائدانہ عظمتیں ختم ہوجائیں گی۔ مگر یہ صرف تنگ نظری ہے۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ جس چیز کو وہ توحش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں وہ صرف ان کی اہلیت کو جانچنے کے لیے ظاہر ہوئی ہے۔ آئندہ وہ خدا کے انعامات کے مستحق ہوں یا نہ ہوں اس کا فیصلہ ان کی اپنی تحفظاتی تدبیروں پر نہیں ہوگا بلکہ اس پر ہوگا کہ دعوت حق کے ساتھ وہ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ گویا دعوت حق کے انکار کے ذریعہ وہ اپنی جس بڑائی کو بچانا چاہتے ہیں وہی انکار وہ چیز ہے جو خدا کے نزدیک ان کے استحقاق کو ختم کررہا ہے۔

آسمانی کتاب کی حامل قوموں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اصل خدائی تعلیمات میں افراط یا تفریط (بڑھا کر یا گھٹا کر)کرکے وہ ایک خود ساختہ دین بنا لیتے ہیں اور لمبی مدت گزرنے کے بعد اس کے افراد اس سے اس قدر مانوس ہو جاتے ہیں کہ اسی کو اصل خدائی مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب خدا کا سیدھا اور سچا دین ان کے سامنے آتاہے تو وہ اس کو اپنے لیے غیر مانوس پاکر متوحش ہوتے ہیں۔ یہود ونصاریٰ کا یہی حال تھا۔ چنانچہ ان کی بہت بڑی اکثریت اسلام کی صداقت کو پانے سے قاصر رہی۔ صرف چند لوگ (مثلاً نجاشی شاہ حبش، عبد اللہ بن سلام، وغیرہ) جو اعتدال کی راہ پر باقی تھے، انھیں اسلام کی صداقت کو سمجھنے میں دیر نہیںلگی۔ انھوں نے بڑھ کر اسلام کو اس طرح اپنا لیا جیسے وہ پہلے سے اسی راستہ پر چل رہے ہوں اور اپنے سفر کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگئے ہوں۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة