تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
١٢:٦
قل لمن ما في السماوات والارض قل لله كتب على نفسه الرحمة ليجمعنكم الى يوم القيامة لا ريب فيه الذين خسروا انفسهم فهم لا يومنون ١٢
قُل لِّمَن مَّا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ قُل لِّلَّهِ ۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ ٱلرَّحْمَةَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَـٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ١٢
قُل
لِّمَن
مَّا
فِي
ٱلسَّمَٰوَٰتِ
وَٱلۡأَرۡضِۖ
قُل
لِّلَّهِۚ
كَتَبَ
عَلَىٰ
نَفۡسِهِ
ٱلرَّحۡمَةَۚ
لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ
إِلَىٰ
يَوۡمِ
ٱلۡقِيَٰمَةِ
لَا
رَيۡبَ
فِيهِۚ
ٱلَّذِينَ
خَسِرُوٓاْ
أَنفُسَهُمۡ
فَهُمۡ
لَا
يُؤۡمِنُونَ
١٢
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات

آیت 12 قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط قُلْ لِّلّٰہِ ط دراصل یہ کہنا اس اعتبار سے ہے کہ مشرکین مکہ بھی یہ مانتے تھے کہ اس کائنات کا مالک اور خالق اللہ ہے۔ وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ لات ‘ منات ‘ عزیٰ اور ہبل نے دنیا کو پیدا کیا ہے۔ وہ ایسے احمق نہیں تھے۔ اپنے ان معبودوں کے بارے میں ان کا ایمان تھا : ہٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ط یونس : 18 کہ یہ اللہ کی جناب میں ہماری شفاعت کریں گے۔ سورة العنکبوت آیت 61 میں الفاظ آئے ہیں : وَلَءِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ط اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے ہیں اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا ہے ؟ تو یہ لازماً کہیں گے کہ اللہ نے ! چناچہ وہ لوگ کائنات کی تخلیق کو اللہ ہی کی طرف منسوب کرتے تھے اور اس کا مالک بھی اللہ ہی کو سمجھتے تھے۔ البتہ ان کا شرکیہ عقیدہ یہ تھا کہ ہمارے یہ معبود اللہ کے بڑے چہیتے اور لاڈلے ہیں ‘ اللہ کے ہاں ان کے بڑے اونچے مراتب ہیں ‘ یہ ہمیں اللہ کی پکڑ سے چھڑوا لیں گے۔کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ط اس نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کرلیا ہے۔یہ لزوم اس نے خود اپنے اوپر کیا ہے ‘ ہم اس پر کوئی شے لازم قرار نہیں دے سکتے۔لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لاَ رَیْبَ فِیْہِ ط اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَہُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ یہاں ایک غور طلب نکتہ یہ ہے کہ قیامت کا دن تو بڑا سخت ہوگا ‘ جس میں احتساب ہوگا ‘ سزا ملے گی۔ پھر یہاں پر رحمت کے لزوم کا ذکر کس حوالے سے آیا ہے ؟ اس کا مفہوم یہ ہے کہ رحمت کا ظہور قیامت کے دن خاص اہل ایمان کے لیے ہوگا۔ اس لحاظ سے یہاں خوشخبری ہے انبیاء و رسل کے لیے ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین کے لیے ‘ اور اہل ایمان کے لیے ‘ کہ جو سختیاں تم جھیل رہے ہو ‘ جو مصیبتیں تم لوگ برداشت کر رہے ہو ‘ اس وقت دنیا میں جو تنگی تمہیں ہو رہی ہے ‘ اس کے بدلے میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا وہ وقت آکر رہے گا جب تمہاری ان خدمات کا بھر پور صلہ ملے گا ‘ تمہاری ان ساری سر فروشیوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سرمحشر قدرافزائی کا اعلان ہوگا۔ کبھی تمہیں یہ خیال نہ آنے پائے کہ ہم تو اپنا سب کچھ یہاں اللہ کے لیے لٹا بیٹھے ہیں ‘ پتا نہیں وہ دن آئے گا بھی یا نہیں ‘ پتا نہیں کوئی ملاقات ہوگی بھی یا نہیں ‘ پتا نہیں یہ سب کچھ واقعی حق ہے بھی یا نہیں ! ان وسوسوں کو اپنے دل و دماغ سے دور رکھو ‘ اور خوشخبری سنو : کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَط لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لاَ رَیْبَ فِیْہِ ط

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة