تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٢:٧٠
للكافرين ليس له دافع ٢
لِّلْكَـٰفِرِينَ لَيْسَ لَهُۥ دَافِعٌۭ ٢
لِّلۡكَٰفِرِينَ
لَيۡسَ
لَهُۥ
دَافِعٞ
٢
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 70:1إلى 70:3

آیت 1 ‘ 2{ سَاَلَ سَآئِلٌم بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ - لِّلْکٰفِرِیْنَ لَـیْسَ لَہٗ دَافِعٌ۔ } ”مانگا ایک مانگنے والے نے ایک ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہو ‘ کافروں کے لیے ‘ جس کو کوئی ٹال نہ سکے گا۔“ یہاں سَاَلَ سَآئِلٌسے کون مراد ہے ؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ میری رائے بہت پہلے سے یہ تھی کہ یہ عذاب طلب کرنے والے خود حضور ﷺ ہیں ‘ لیکن مجھے اپنی رائے پر اطمینان اس وقت ہوا جب مجھے معلوم ہوا کہ شاہ عبدالقادر دہلوی رح کی رائے بھی یہی ہے۔ عام مفسرین میں سے بہت کم لوگ شاہ صاحب رح کی اس رائے سے متفق ہیں کہ اس آیت میں حضور ﷺ کی خواہش یا دعا کا ذکر ہے۔ اس آیت کو سمجھنے کے لیے دراصل اس دور کا نقشہ ذہن میں لانا ضروری ہے جب حضور ﷺ پر ہر طرف سے طرح طرح کے الزامات کی بوچھاڑ ہو رہی تھی اور مکہ کی گلیوں میں آپ ﷺ کو شاعر ‘ مجنون ‘ ساحر اور کذاب جیسے ناموں سے پکارا جارہا تھا معاذ اللہ۔ اعلانِ نبوت کے بعد تین سال تک تو یوں سمجھئے کہ پورے شہر کی مخالفت کا نشانہ صرف حضور ﷺ کی ذات تھی۔ مشرکین کا خیال تھا کہ اگر وہ آپ ﷺ کی قوت ارادی اور ہمت توڑنے یا کسی بھی طریقے سے آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے موقف سے ہٹانے میں کامیاب ہوگئے تو یہ تحریک خود بخود ختم ہوجائے گی۔ چناچہ اس دور میں عام اہل ایمان کو نظرانداز کر کے صرف آپ ﷺ کی ذات کو نشانے پر رکھا گیا تھا۔ اس دوران اگرچہ آپ ﷺ کو کوئی جسمانی اذیت تو نہ پہنچائی گئی لیکن باقاعدہ ایک منظم مہم کے تحت آپ ﷺ کے خلاف ذہنی ‘ نفسیاتی اور جذباتی تشدد کی انتہا کردی گئی۔ ان لوگوں کی اس مذموم مہم کی وجہ سے حضور ﷺ مسلسل ایک کرب اور تکلیف کی کیفیت میں تھے۔ اس کا اندازہ ان الفاظ اور جملوں سے بھی ہوتا ہے جو اس دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں آپ ﷺ کی تسلی کے لیے جگہ جگہ آئے ہیں۔ بہرحال حضور ﷺ بھی تو آخر انسان تھے۔ مسلسل شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرتے ہوئے ردّعمل کے طور پر آپ ﷺ کے دل میں ایسی خواہش کا پیدا ہونا ایک فطری امر تھا کہ اب ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجانا چاہیے۔ چناچہ ان آیات میں آپ ﷺ کی اسی خواہش یا دعا کا ذکر ہے۔ اس حوالے سے یہاں یہ نکتہ بھی مدنظر رہے کہ اس سورت کا سورة نوح کے ساتھ جوڑے کا تعلق ہے اور سورة نوح میں بھی حضرت نوح علیہ السلام کی اس دعا کا ذکر ہے جس میں آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اپنی قوم کے لیے سخت عذاب مانگا تھا۔ گویا ان دونوں سورتوں کے اس مضمون کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اس تعلق میں یہ مناسبت بھی بہت اہم ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام پہلے رسول اور حضور ﷺ آخری رسول ہیں۔ 1

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة