تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٤٥:٧
الذين يصدون عن سبيل الله ويبغونها عوجا وهم بالاخرة كافرون ٤٥
ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًۭا وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ كَـٰفِرُونَ ٤٥
ٱلَّذِينَ
يَصُدُّونَ
عَن
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
وَيَبۡغُونَهَا
عِوَجٗا
وَهُم
بِٱلۡأٓخِرَةِ
كَٰفِرُونَ
٤٥
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 7:44إلى 7:45
جنتیوں اور دوزخیوں میں مکالمہ ٭٭

جنتی جب جنت میں جا کر امن چین سے بیٹھ جائیں گے تو دوزخیوں کو شرمندہ کرنے کے لئے ان سے دریافت فرمائیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے کئے گئے تھے، صحیح پایا۔ تم اپنی کہو!

«ان» یہاں پر مفسرہ ہے قول محذوف کا اور «قد» تحقیق کے لئے ہے۔

اس کے جواب میں مشرکین ندامت سے کہیں گے کہ ہاں! ہم نے بھی اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے تھے ٹھیک پایا۔ جیسا سورۃ الصافات میں فرمان ہے کہ ” اہل جنت میں سے ایک کہے گا کہ میرا ساتھی تھا جو مجھ سے تعجب کے ساتھ سوال کیا کرتا تھا کہ کیا تو بھی ان لوگوں میں سے ہے جو قیامت کے قائل ہیں؟ جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیاں ہو کر رہ جائیں گے، کیا واقعی ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے؟ اور ہمیں بدلے دیئے جائیں گے؟ یہ جنتی کہے گا کہ کیا تم بھی میرے ساتھ ہو کر اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟ یہ کہہ کر وہ اوپر سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے اس ساتھی کو بیچ جہنم میں پائے گا۔ کہے گا: قسم اللہ کی! تو تو مجھے بھی تباہ کرنے ہی کو تھا، اگر میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو میں بھی آج گرفتار عذاب ہوتا۔ “ [37-الصافات:51-57] ‏

اب بتاؤ! دنیا میں جو کہا کرتا تھا، کیا سچا تھا کہ ہم مر کر جینے والے اور بدلہ بھگتنے والے ہی نہیں؟ اس وقت فرشتے کہیں گے: یہی وہ جہنم ہے جسے تم جھوٹا مان رہے تھے۔ اب بتاؤ! کیا یہ جادو ہے؟ یا تمہاری آنکھیں نہیں ہیں؟ اب یہاں پڑے جلتے بھنتے رہو۔ صبر اور بے صبری دونوں نتیجے کے اعتبار سے تمہارے لیے یکساں ہے۔ تمہیں اپنے کئے کا بدلہ پانا ہی ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش کے ان مقتولوں کو جو بدر میں کام آئے تھے اور جن کی لاشیں ایک کھائی میں تھیں، ڈانٹا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ اے ابوجہل بن ہشام، اے عتبہ بن ربیعہ، اے شیبہ بن ربیعہ! اور دوسرے سرداروں کا بھی نام لیا اور فرمایا: کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ میں نے تو اپنے رب کے وہ وعدے دیکھ لیے جو اس نے مجھ سے کئے تھے۔

صفحہ نمبر2912

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان سے باتیں کر رہے ہیں جو مر کر مردار ہو گئے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میری بات کو تم بھی ان سے زیادہ نہیں سن رہے لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے۔ [صحیح بخاری:3976] ‏

پھر فرماتا ہے کہ اسی وقت ایک منادی ندا کر کے معلوم کرا دے گا کہ ظالموں پر رب کی ابدی لعنت واقع ہو چکی۔ جو لوگوں کو راہ حق اور شریعت ہدیٰ سے روکتے تھے اور چاہتے تھے کہ اللہ کی شریعت ٹیڑھی کر دیں تاکہ اس پر کوئی عمل نہ کرے۔ آخرت پر بھی انہیں یقین نہ تھا، اللہ کی ملاقات کو نہیں مانتے تھے اسی لیے بےپرواہی سے برائیاں کرتے تھے۔ حساب کا ڈر نہ تھا، اس لیے سب سے زیادہ بدزبان اور بداعمال تھے۔

صفحہ نمبر2913
Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة