تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٤٥:٧
الذين يصدون عن سبيل الله ويبغونها عوجا وهم بالاخرة كافرون ٤٥
ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًۭا وَهُم بِٱلْـَٔاخِرَةِ كَـٰفِرُونَ ٤٥
ٱلَّذِينَ
يَصُدُّونَ
عَن
سَبِيلِ
ٱللَّهِ
وَيَبۡغُونَهَا
عِوَجٗا
وَهُم
بِٱلۡأٓخِرَةِ
كَٰفِرُونَ
٤٥
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 7:44إلى 7:45

ان آیات میں قدیم زمانہ کے کچھ لوگوں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ جنت اور جہنم تو ایک دوسرے سے بہت زیادہ دور واقع ہوں گی،جنت آسمانوں کے اوپر ہوگی اور دوزخ سب سے نیچے تحت الثریٰ میں۔ پھر جنت والوں کی آوازیں جہنم والوں تک کس طرح پہنچیں گی۔ مگر اب ریڈیو اور ٹیلی وژن کے دور میں یہ سوال کوئی سوال نہیں۔آج انسان یہ جان چکا ہے کہ دور کے فاصلوں سے کسی کو دیکھنا بھی ممکن ہے اور اس کی آواز سننا بھی۔ جو بات قدیم انسان کوناقابلِ فہم نظر آتی تھی وہ آج کے انسان کے ليے خود اپنے تجربات ومشاہدات کی روشنی میں پوری طرح قابلِ فہم ہوچکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی کوئی بات اگر آج کی معلومات کی روشنی میں سمجھ میں نہ آرہی ہو تو اس بنا پر اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں لگانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ علم کے اضافہ کے بعد کل وہ چیز ایک جانی پہچانی چیز بن جائے جو آج بظاہر اَن جاني چیز کی طرح دکھائی دے رہی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ آخرت میں جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان تعلق موجودہ قسم کے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے ذریعہ قائم ہوگا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جدید دریافتوں نے اس بات کو قابل فہم بنا دیا ہے کہ خدا کی کائنات میں ایسے انتظامات بھی ممکن ہیں کہ ایک دوسرے سے بہت دور رہ کر بھی دو آدمی ایک دوسرے کو دیکھیں اور ایک دوسرے سے بخوبی طورپر بات کریں۔

کسی دلیل کا وزن آدمی اسی وقت سمجھ پاتاہے جب کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ جو لوگ آخرت کو اہمیت نہ دیں وہ آخرت سے متعلق دلائل کا وزن بھی محسوس نہیں کرپاتے۔آخرت کی بات ان کے سامنے انتہائی مضبوط دلائل کے ساتھ آتی ہے۔ مگر اس کے بارے میں ان کا غیر سنجیدہ ذہن اس کے اندر کوئی نہ کوئی عیب تلاش کرلیتاہے۔ وہ طرح طرح کے اعتراض نکال کر خود بھی شک وشبہ میں مبتلا ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی شک وشبہ میں مبتلا کرتے ہیں،ایسے لوگ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں۔ وہ آخرت میں صرف خدا کی لعنت کے مستحق ہوں گے خواہ دنیا میں وہ اپنے کو خدا کی رحمتوں کا سب سے بڑا حق دار سمجھتے رہے ہوں۔

کوئی دلیل خواہ کتنی ہی وزنی اور قطعی ہو، آدمی کے ليے ہمیشہ یہ موقع رہتا ہے کہ وہ کچھ خوب صورت الفاظ بول کر اس کی صداقت کے بارے میں لوگوں کو مشتبہ کردے۔ عوام ایک حقیقی دلیل اور ایک لفظی شوشہ میں فرق نہیں کر پاتے اس ليے وہ اس قسم کی باتیں سن کر حق سے بدک جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ سمجھنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود اس طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو حق سے بدکاتے ہیں وہ آخرت کے دن خدا کی رحمتوں سے آخری حد تک دور ہوںگے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة