تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٦٤:٧
فكذبوه فانجيناه والذين معه في الفلك واغرقنا الذين كذبوا باياتنا انهم كانوا قوما عمين ٦٤
فَكَذَّبُوهُ فَأَنجَيْنَـٰهُ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥ فِى ٱلْفُلْكِ وَأَغْرَقْنَا ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَـٰتِنَآ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًا عَمِينَ ٦٤
فَكَذَّبُوهُ
فَأَنجَيۡنَٰهُ
وَٱلَّذِينَ
مَعَهُۥ
فِي
ٱلۡفُلۡكِ
وَأَغۡرَقۡنَا
ٱلَّذِينَ
كَذَّبُواْ
بِـَٔايَٰتِنَآۚ
إِنَّهُمۡ
كَانُواْ
قَوۡمًا
عَمِينَ
٦٤
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الآيات ذات الصلة
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 7:59إلى 7:64

حضرت آدم کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک تمام اولادِ آدم توحید پر قائم تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اس کے بعد لوگوں نے اپنے اکابر اسلاف کی شکلیں بنانا شروع کیں تا کہ ان کے احوال وعبادات کی یاد تازہ رہے۔ ان بزرگوں کے نام وَدّ، سُواع، یغوث، یعوق، نسر تھے۔ دھیرے دھیرے ان بزرگوں نے ان کے درمیان معبود کا درجہ حاصل کرلیا۔ یہ لوگ قدیم عراق میں آباد تھے۔ جب بگاڑ اس نوبت کو پہنچا تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لیے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ مگر انھوںنے حضرت نوح کو ماننے سے انکار کردیا۔ وہ تقویٰ کی روش اختیار کرنے پر آمادہ نه ہوئے۔

اس انکار کی وجہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھی کہ ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوگیا کہ ایک آدمی جو دیکھنے میں انھیں جیسا ہے وہ خدا کی طرف سے خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے چنا گیا ہے۔ وہ اپنے کو جن اکابر کے دین پر سمجھتے تھے ان کے مقابلہ میں حضرت نوح ان کو بہت معمولی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ ان قدیم اکابر کی عظمت صدیوں کی تاریخ سے مسلم ہوچکی تھی۔ اس کے مقابلہ میں حضرت نوح ایک معاصر شخص تھے۔ ان کے نام کے ساتھ تاریخی عظمتیں جمع نہیں ہوئی تھیں۔ چنانچہ قوم نے آپ کا انکار کردیا۔ انھوںنے وقت کے پیغمبر کو احمق اور گمراہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ کیوںکہ ان کے خیال کے مطابق آپ اکابر کے دین سے منحرف ہوگئے تھے۔ حضرت نوح کی خیر خواہی، ان کے ساتھ دلائل کا زور، ان کا راہِ حق پر قائم ہونا، کوئی بھی چیز قوم کو متاثر نہ کرسکی۔

حضرت نوح کی طرف سے اتمام حجت کے بعد قوم غرق کردی گئی۔ اس غرقابی کی وجہ یہ تھی کہ انھوںنے خداکی نشانیوں کو جھٹلایا۔ انھوںنے چاہا کہ ’’معمولی شخصیت‘‘ کے بجائے کسی ’’مسلمہ شخصیت‘‘ کے ذریعہ انھیں خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔ مگر خدا کی نظر میں یہ اندھا پن تھا۔ خدانے آدمی کو بصیرت اس ليے دی ہے کہ وہ ’’نشانی‘‘ کے روپ میں حق کو پہچان لے، نہ کہ حسی مظاہرہ کی صورت میں۔ جو لوگ نشانی کے روپ میں حق کو نہ پہچانیںوہ خداکی نظر میں آنکھ رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا کی رحمت میں کوئی حصہ نہیں۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة