تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٨:٧
والوزن يوميذ الحق فمن ثقلت موازينه فاولايك هم المفلحون ٨
وَٱلْوَزْنُ يَوْمَئِذٍ ٱلْحَقُّ ۚ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ فَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ٨
وَٱلۡوَزۡنُ
يَوۡمَئِذٍ
ٱلۡحَقُّۚ
فَمَن
ثَقُلَتۡ
مَوَٰزِينُهُۥ
فَأُوْلَٰٓئِكَ
هُمُ
ٱلۡمُفۡلِحُونَ
٨
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 7:8إلى 7:9
میزان اور اعمال کا دین ٭٭

قیامت کے دن نیکی، بدی، انصاف و عدل کے ساتھ تولی جائے گی، اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ جیسے فرمان ہے «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» [21-الأنبياء:47] ‏ ” قیامت کے دن ہم عدل کا ترازو رکھیں گے، کسی پر کوئی ظلم نہ ہو گا، رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہو گا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے میں کافی ہیں۔ “

اور آیت میں ہے: ” اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، وہ نیکی کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ “ [4-النساء:40] ‏

سورۃ القارعہ میں فرمایا: ” جس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گیا اسے عیش و نشاط کی زندگی ملی اور جس کا نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا اس کا ٹھکانا ہاویہ ہے جو بھڑکتی ہوئی آگ کے خزانے کا نام ہے۔ “ [101-القارعة:6-11] ‏

صفحہ نمبر2854

اور آیت میں ہے «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ» [23-المؤمنون:101] ‏ یعنی ” جب نفحہ پھونک دیا جائے گا، سارے رشتے ناطے اور نسب حسب ٹوٹ جائیں گے، کوئی کسی کا پرسان حال نہ ہو گا۔ اگر تول میں نیک اعمال بڑھ گئے تو فلاح پا لی ورنہ خسارے کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔ “

صفحہ نمبر2855
فصل ٭٭

کوئی تو کہتا ہے کہ خود اعمال تولے جائیں گے، کوئی کہتا ہے: نامہ اعمال تولے جائیں گے۔ کوئی کہتا ہے: خود عمل کرنے والے تولے جائیں گے۔ ان تینوں قولوں کو اس طرح جمع کرنا بھی ممکن ہے کہ ہم کہیں یہ سب صحیح ہیں۔ کبھی اعمال تولے جائیں گے، کبھی نامہ اعمال، کبھی خود اعمال کرنے والے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ان تینوں باتوں کی دلیلیں بھی موجود ہیں۔ پہلے قول کا مطلب یہ ہے کہ اعمال گو ایک بےجسم چیز ہیں لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں جسم عطا فرمائے گا جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے: سورۃ البقرہ اور سورۃ آل عمران قیامت کے دن دو سائبانوں کی یا دو ابر کی یا پر پھیلائے ہوئے پرندوں کے دو جھنڈ کی صورت میں آئیں گی۔ [صحیح مسلم:805] ‏

اور حدیث میں ہے کہ قرآن اپنے قاری اور عامل کے پاس ایک نوجوان خوش شکل، نورانی چہرے والے کی صورت میں آئے گا۔ یہ اسے دیکھ کر پوچھے گا کہ تو کون ہے؟ یہ کہے گا: میں قرآن ہوں جو تجھے راتوں کی نیند نہیں سونے دیتا تھا اور دنوں میں پانی پینے سے روکتا تھا۔ [سنن ابن ماجه:3781، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدنا براء رضی اللہ عنہ والی حدیث میں، جس میں قبر کے سوال جواب کا ذکر ہے، اس میں یہ بھی فرمان ہے کہ مومن کے پاس ایک نوجوان خوبصورت، خوشبودار آئے گا۔ یہ اس سے پوچھے گا کہ تو کون ہے؟ وہ جواب دے گا کہ میں تیرا نیک عمل ہوں۔ [مسند احمد:287/4:صحیح] ‏ اور کافر و منافق کے پاس اس کے برخلاف شخص کے آنے کا بیان ہے۔

یہ تو تھیں پہلے قول کی دلیلیں۔ دوسرے قول کی دلیلیں یہ ہیں:

صفحہ نمبر2856

ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص کے سامنے اس کے گناہوں کے ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے جس میں سے ہر ایک اتنا بڑا ہو گا جتنی دور تک نظر پہنچے۔ پھر ایک پرچہ نیکی کا لایا جائے گا جس پر «لَا اِلٰہَ اِلَا اللہُ» ہو گا۔ یہ کہے گا: یااللہ! اتنا سا پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو اس سے بےخطر رہ کہ تجھ پر ظلم کیا جائے۔ اب وہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلہ میں نیکی کے پلڑے میں رکھا جائے گا تو وہ سب دفتر اونچے ہو جائیں گے اور یہ سب سے زیادہ وزن دار اور بھاری ہو جائیں گے۔ [سنن ترمذي:2639، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ (‏ترمذی)

تیسرا قول بھی دلیل رکھتا ہے: حدیث میں ہے: ایک بہت موٹا تازہ گنہگار انسان اللہ کے سامنے لایا جائے گا لیکن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن اللہ کے پاس اس کا نہ ہو گا۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی «اُولٰىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَلِقَاىِٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا» [18-الكهف:105] ‏ ” ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہ کریں گے۔ “ [صحیح بخاری:4729] ‏

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تعریف میں جو حدیثیں ہیں، ان میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کی پتلی پنڈلیوں پہ نہ جانا۔ اللہ کی قسم! اللہ کے نزدیک یہ احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزن دار ہے۔ [مسند احمد:420/1:حسن] ‏

صفحہ نمبر2857
Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة