تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٨٣:٧
فانجيناه واهله الا امراته كانت من الغابرين ٨٣
فَأَنجَيْنَـٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ كَانَتْ مِنَ ٱلْغَـٰبِرِينَ ٨٣
فَأَنجَيۡنَٰهُ
وَأَهۡلَهُۥٓ
إِلَّا
ٱمۡرَأَتَهُۥ
كَانَتۡ
مِنَ
ٱلۡغَٰبِرِينَ
٨٣
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 7:80إلى 7:84

حضرت لوط حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ وہ جس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجے گئے وہ دریائے اردن کے کنارے جنوبی شام کے علاقہ میں آباد تھی۔ اس قوم کی خوش حالی اس کو عیش پرستی کی طرف لے گئی۔ حتی کہ ان لوگوں کی بے راہ روی اتنی بڑھ گئی کہ انھوںنے اپنی شہوانی خواہشات کی تسکین کے لیے ہم جنسی کے طریقے کواختیار کرلیا۔پیغمبر نے ان کو اس کھلی ہوئی بے حیائی سے ڈرایا۔

کائنات کے ليے فطرت کی ایک اسکیم ہے۔ اس اسکیم کو قرآن میںاصلاح کہاگیا ہے۔ اس اصلاح کے خلاف چلنے کا نام فساد ہے۔ کائنات کی تمام چیزیں اسی اصلاحی راستہ پر چل رہی ہیں۔یہ صرف انسان ہے جو اپنی آزادی کا غلط فائدہ اٹھاتا ہے اور فطرت کے راستہ کے خلاف اپنا راستہ بناتا ہے۔ حضرت لوط کی قوم اسی قسم کے ایک فسادمیں مبتلا تھی۔ جنسی تعلق کا طریقہ یہ ہے کہ عورت اور مرد باہم بیوی اور شوہر بن کر رہیں۔ یہ اصلاح کے طریقہ پر چلنا ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ ہو کہ مرد مرد یا عورت عورت کے درمیان جنسی تعلقات قائم كيے جانے لگیں تو یہ خدا کی مقرر کی ہوئی حد سے گزرجانا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں فساد کہاگیا ہے۔

حضرت لوط پر صرف ان کے قریبی لوگوں میں سے چند افراد ایمان لائے۔ باقی پوری قوم اپنی ہوس پرستی میں غرق رہی۔ انھوں نے کہا’’ جب یہ ہم سب لوگوں کوگندہ سمجھتے ہیں اور خود پاک بننا چاہتے ہیں تو گندوں میں پاکوں کا کیاکام۔ پھر تو یہ نکل جائیں ہمارے شہر سے‘‘۔ ان کا یہ قول دراصل گھمنڈ کا قول تھا۔ ان کو یہ کہنے کی جرأت اس ليے ہوئی کہ وہ اپنی اکثریت اور مادی تفوق کی وجہ سے اپنے کو محفوظ حالت میں سمجھتے تھے۔ گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا لوگ ہمیشہ اپنے کمزور پڑوسیوں سے کہتے ہیں کہ جن لوگوں کو ہمارا طریقہ پسند نہیں وہ ہماری زمین کو چھوڑ دیں۔ مگر یہ خدا کی دنیا میں شرک کرنا ہے اور شرک سب سے بڑا جرم ہے۔

حضرت لوط کی قوم پر خدا کا عذاب آیا تو عذاب کا شکار ہونے والوں میں پیغمبر کی بیوی بھی شامل تھیں۔ اس سے انعام اور سزا کے باب میں خدا کا بے لاگ انصاف ظاہر ہوتا ہے ۔ خدا کے انصاف کے ترازو میں رشتوں اور دوستیوں کا کوئی لحاظ نہیں۔ خدا کا فیصلہ اتنا بے لاگ ہے کہ اس نے حضرت نوح کے بیٹے، حضرت ابراہیم کے باپ، حضرت لوط کی بیوی اور حضرت محمد کے چچا کو بھی معاف نہیں کیا۔ اور دوسری طرف فرعون کی بیوی نے صالح عمل کا ثبوت دیا تو اس کو جنت میں داخل کردیا۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة