تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٢٥:٨
واتقوا فتنة لا تصيبن الذين ظلموا منكم خاصة واعلموا ان الله شديد العقاب ٢٥
وَٱتَّقُوا۟ فِتْنَةًۭ لَّا تُصِيبَنَّ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنكُمْ خَآصَّةًۭ ۖ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ ٢٥
وَٱتَّقُواْ
فِتۡنَةٗ
لَّا
تُصِيبَنَّ
ٱلَّذِينَ
ظَلَمُواْ
مِنكُمۡ
خَآصَّةٗۖ
وَٱعۡلَمُوٓاْ
أَنَّ
ٱللَّهَ
شَدِيدُ
ٱلۡعِقَابِ
٢٥
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 8:24إلى 8:25

’’زندگی کی پکار‘‘ سے مراد یہاں جہاد کی پکار ہے۔ یعنی حق کو دوسروں تک پہنچانے کی جدوجہد۔ یہ جدوجہد ابتداء ً زبان وقلم کے ذریعہ تلقین کی صورت میں شروع ہوتی ہے۔ مگر مدعو کا مخالفانہ رد عمل اس کو مختلف مراحل تک پہنچا دیتاہے، حتی کہ ہجرت اور جنگ تک بھی۔

آدمی انفرادی سطح پر اپنے خیال کے مطابق ایک دینی زندگی بناتا ہے۔ اس زندگی کو وہ اپنے حالات سے اس طرح مطابق کرلیتاہے کہ وہ اس کو عافیت کا جزیرہ معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کو ایسا محسوس ہوتاہے کہ اگر وہ دوسروں کی اصلاح کے ليے اٹھتاتو اس کا بنا بنایا آشیانہ اجڑ جائے گا۔ اس کی لگی بندھی زندگی بے ترتیب ہو کر رہ جائے گی۔ اس کے وقت اور اس کے مال کا وہ نظام باقی نہ رہے گا، جو اس نے اپنے ذاتی تقاضوں کے تحت بنا رکھا ہے۔

اس قسم کے اندیشے اس کے ليے دعوت واصلاح کی جدوجہد میں نکلنے اور اس کی راه میں جان ومال پیش کرنے کے ليے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی جس عافیت کدہ کو اپنے ليے زندگی سمجھ رہا ہے، وہ اس کا قبرستان ہے۔ اور جس قربانی میں اس کو اپنی موت نظر آتی ہے اسی میں اس کی زندگی کا راز چھپا ہوا ہے۔

دعوت واصلاح کا عمل، بشرطیکہ وہ آخرت کے ليے ہو، نہ کہ دنیوی مقاصد کے ليے، انتہائی اہم عمل ہے۔ وہ آدمی کے مُردہ دین کو زندہ دین بناتا ہے۔ وہ اعلیٰ ترین سطح پر انسان کو خدا سے جوڑتاہے۔ وہ ان قیمتی دینی تجربات سے آدمی کو آشنا کرتاہے جو انفرادی خول میں رہ کر کبھی حاصل نہیں ہوتے۔ خدا کی طرف سے اتنی اہم پکار کو سن کر جو لوگ اس کے بارے میں بے توجہ رہیں، وہ یہ خطرہ مول لے رهے ہیں کہ ان کے اور حق کے درمیان ایک نفسیاتی آڑ کھڑی ہوجائے۔ ان کی یہ فطری صلاحیت ہمیشہ کے ليے کُند ہوجائے کہ وہ حق کی پکار سنیں اور اس کی طرف دوڑ کر اپنے رب کو پالیں۔

انسان کی زندگی ایک سماجی زندگی ہے۔ کوئی شخص اس کے اندر اپنا انفرادی جزیرہ بنا کر نہیں رہ سکتا۔ اگر ایک شخص ذاتی دین داری پر قانع ہے تو وہ ہر وقت اس اندیشہ میں ہے کہ اجتماعی بگاڑ کے نتیجہ میں کوئی عمومی آگ پھیلے اور وہ خود بھی اس کی لپیٹ میں آجائے۔ اصلاحی جدوجہد اصلاح کے ساتھ برأت بھی ہے۔ اگر آدمی اپنی برأت پیش کرنے میں ناکام رہے تو خدا اس کے معاملہ کو کیوں دوسروں سے الگ کرے گا۔

کوئی برائی ہمیشہ چھوٹی سطح سے شروع ہوتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے بڑی بن جاتی ہے۔ اگر ایسا ہو کہ برائی جب اپنی ابتدائی حالت میں ہو اسی وقت کچھ لوگ اس کے خلاف اٹھ جائیں تو وہ آسانی کے ساتھ اسے کچل دیں گے۔ لیکن جب برائی پھیل چکی ہو تو اس کی جڑیں اتنی گہری ہوجاتی ہیں کہ پھر اس کو ختم کرنا ممکن نہیں رہتا۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة