تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٦٨:٨
لولا كتاب من الله سبق لمسكم فيما اخذتم عذاب عظيم ٦٨
لَّوْلَا كِتَـٰبٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَآ أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ ٦٨
لَّوۡلَا
كِتَٰبٞ
مِّنَ
ٱللَّهِ
سَبَقَ
لَمَسَّكُمۡ
فِيمَآ
أَخَذۡتُمۡ
عَذَابٌ
عَظِيمٞ
٦٨
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 8:67إلى 8:69

بدر کی لڑائی میں مسلمانوں نے ستر بڑے بڑے مشرکینِ مکہ کو قتل کیا۔ اس کے بعد جب ان کے پاؤں اکھڑنے لگے تو ان کے 70آدمیوں کو گرفتار کرلیا۔ ان گرفتار ہونے والوں میں اکثر سردار تھے۔ جنگ کے بعد مشورہ ہوا کہ ان قيدیوں کے ساتھ کیا کیا جائے۔ صحابہ کی اکثریت نے یہ رائے دی کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ اس وقت اسلام دشمنوں نے مسلسل حالت جنگ برپا کر رکھی تھی۔ مگر مسلمانوں کے پاس مال نہ ہونے کی وجہ سے سامانِ جنگ کی بہت کمی تھی۔ یہ خیال کیاگیا کہ فدیہ سے جو رقم ملے گی اس سے سامانِ جنگ خریدا جاسکتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت سعد بن معاذ اس رائے کے خلاف تھے۔ حضرت عمر نے کہا اے خدا کے رسول یہ قیدی کفر کے امام اور مشرکین کے سردار ہیں۔ یعنی اس وقت دشمنوں کی اصل طاقت ہماری مٹھی میں آگئی ہے، ان کو قتل کرکے اس مسئلہ کا ہمیشہ کے ليے خاتمہ کردیا جائے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رائے پر عمل فرمایا۔

بعد کو جب وہ آیتیں اتریں جن میں جنگ پر تبصرہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے فدیہ کی رقم کو جائز ٹھہراتے ہوئے اس روش پر اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ جنگی قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا اگرچہ بظاہر رحمت وشفقت کا معاملہ تھا۔ مگر وہ اللہ کے دور رس منصوبہ کے مطابق نہ تھا۔ اللہ کا اصل منصوبہ کفروشرک کی جڑ اکھاڑنا تھا۔ اس مقصد کے ليے اللہ تعالیٰ نے قریش کے تمام لیڈروں کو (ابولہب اور ابوسفیان کو چھوڑ کر) بدر کے میدان میں جمع کردیا اور ایسے حالات پیدا كيے کہ وہ پوری طرح مسلمانوں کے قابو میںآگئے۔ اگر ان لیڈروں کو اس وقت ختم کردیا جاتا تو کفر وشرک کی مزاحمت بدر کے میدان میں پوری طرح دفن ہو جاتی۔ مگر لیڈروں کو چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ منظم ہو کر دوبارہ اپنی مزاحمت کی تحریک جاری رکھنے کے قابل ہوگئے۔

یہ فیصلہ جنگی مصلحت کے خلاف تھا۔ وہ مسلمانوں کے ليے عذاب عظیم (سخت مصیبتوں) کا باعث بن جاتا۔ یہ لیڈر اپنے عوام کو ساتھ لے کر اسلام کے سارے معاملہ کو تہس نہس کردیتے۔ مگر اللہ نے آخری رسول اورآپ کے اصحاب کے ليے پہلے سے مقدر کردیا تھا کہ وہ لازماً غالب رہیں گے، ان کو زیر کرنے میں کوئی کامیاب نہ ہوسکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی تدبیرمیں اس کوتاہی کے باوجود قریش اہل ایمان کے اوپر غالب نہ آسکے۔ اور بالآخر وہی ہوا جس کا ہونا پہلے سے خدا کے یہاں لکھا جاچکا تھا، یعنی مسلمانوں کی فتح اور اسلام کا غلبہ۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة