تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
١٠١:٩
وممن حولكم من الاعراب منافقون ومن اهل المدينة مردوا على النفاق لا تعلمهم نحن نعلمهم سنعذبهم مرتين ثم يردون الى عذاب عظيم ١٠١
وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ ٱلْأَعْرَابِ مُنَـٰفِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ ٱلْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا۟ عَلَى ٱلنِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍۢ ١٠١
وَمِمَّنۡ
حَوۡلَكُم
مِّنَ
ٱلۡأَعۡرَابِ
مُنَٰفِقُونَۖ
وَمِنۡ
أَهۡلِ
ٱلۡمَدِينَةِ
مَرَدُواْ
عَلَى
ٱلنِّفَاقِ
لَا
تَعۡلَمُهُمۡۖ
نَحۡنُ
نَعۡلَمُهُمۡۚ
سَنُعَذِّبُهُم
مَّرَّتَيۡنِ
ثُمَّ
يُرَدُّونَ
إِلَىٰ
عَذَابٍ
عَظِيمٖ
١٠١
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات

آیت 101 وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ط وَمِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِقف مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ قف یہ وہ لوگ ہیں جن کے نفاق کا مرض اب آخری مرحلے میں پہنچ کر لا علاج ہوچکا ہے اور اب اس مرض سے ان کے شفایاب ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ منافقت کے مرض کی بھی ٹی بی کی طرح تین stages ہوتی ہیں۔ جھوٹے بہانے بنانا اس مرض کی ابتدا ہے ‘ جبکہ بات بات پر جھوٹی قسمیں کھانا دوسری سٹیج کی علامت ہے ‘ اور جب یہ مرض تیسری اور آخری سٹیج میں پہنچتا ہے تو اس کی واضح علامت منافقین کی اہل ایمان کے ساتھ ضد اور دشمنی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اہل ایمان تو دین کے تمام مطالبات خوشی خوشی پورے کرتے ہیں ‘ جس مہم سے بچنے کے لیے منافقین بہانے تراشنے میں مصروف ہوتے ہیں اہل ایمان بلا حیل و حجت اس کے لیے دل و جان سے حاضر ہوجاتے ہیں۔ مؤمنین صادقین کا یہ رویہ منافقین کے لیے ایک عذاب سے کم نہیں ہوتا ‘ جس کے باعث آئے دن ان کی سبکی ہوتی ہے اور آئے دن ان کی منافقت کا پول کھلتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منافقین کو مسلمانوں سے نفرت اور عداوت ہوجاتی ہے اور یہی اس مرض کی آخری سٹیج ہے۔لاَ تَعْلَمُہُمْ ط نَحْنُ نَعْلَمُہُمْط سَنُعَذِّبُہُمْ مَّرَّتَیْنِ منافقین مدینہ تو ہر روز نئے عذاب سے گزرتے تھے۔ ہر روز کہیں نہ کہیں اللہ کی راہ میں نکلنے کا مطالبہ ہوتا تھا اور ہر روز انہیں جھوٹی قسمیں کھا کھا کر ‘ جھوٹے بہانے بنا بنا کر جان چھڑانا پڑتی تھی۔ اس لحاظ سے ان کی زندگی مسلسل عذاب میں تھی۔ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ دنیا کا عذاب جتنا بھی ہو آخرت کے عذاب کے مقابلے میں تو کچھ بھی نہیں۔ لہٰذا دنیا کے عذاب جھیلتے جھیلتے ایک دن انہیں بہت بڑے عذاب کا سامنا کرنے کے لیے پیش ہونا پڑے گا۔ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ ‘ ان کے متبعین اور پھر منافقین کے ذکر کے بعد اب کچھ ایسے لوگوں کا ذکر ہونے جا رہا ہے جو ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہیں۔ ان لوگوں کا ذکر بھی دو الگ الگ درجوں میں ہوا ہے۔ ان میں پہلے جس گروہ کا ذکر آ رہا ہے وہ اگرچہ مخلص مسلمان تھے مگر ان میں ہمت کی کمی تھی۔ چلنا بھی چاہتے تھے مگر چل نہیں پاتے تھے۔ کسی قدر چلتے بھی تھے مگر کبھی کوتاہی بھی ہوجاتی تھی۔ ہمت کر کے آگے بڑھتے تھے لیکن کبھی کسل مندی اور سستی کا غلبہ بھی ہوجاتا تھا۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة