تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
١١٣:٩
ما كان للنبي والذين امنوا ان يستغفروا للمشركين ولو كانوا اولي قربى من بعد ما تبين لهم انهم اصحاب الجحيم ١١٣
مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَن يَسْتَغْفِرُوا۟ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوٓا۟ أُو۟لِى قُرْبَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَحِيمِ ١١٣
مَا
كَانَ
لِلنَّبِيِّ
وَٱلَّذِينَ
ءَامَنُوٓاْ
أَن
يَسۡتَغۡفِرُواْ
لِلۡمُشۡرِكِينَ
وَلَوۡ
كَانُوٓاْ
أُوْلِي
قُرۡبَىٰ
مِنۢ
بَعۡدِ
مَا
تَبَيَّنَ
لَهُمۡ
أَنَّهُمۡ
أَصۡحَٰبُ
ٱلۡجَحِيمِ
١١٣
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 9:112إلى 9:113

آیت 112 اَلتَّآءِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآءِحُوْنَ الرّٰکِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ ’ سَاءِحُوْنَ ‘ کا معنی ہے سیاحت کرنے والے۔ لیکن اس سے مرادمحض سیر و سیاحت نہیں بلکہ عبادت و ریاضت کے لیے گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہونا ہے۔ پچھلی امتوں میں روحانی ترقی کے لیے لوگ لذات دنیوی کو ترک کر کے اور انسانی آبادیوں سے لا تعلق ہو کر جنگلوں میں چلے جاتے تھے اور رہبانیت اختیار کرلیتے تھے ‘ مگر ہمارے دین میں ایسی سیاحت اور رہبانیت کی اجازت نہیں۔ چناچہ حضور ﷺ نے فرمایا : لاَ رَہْبَانِیَّۃَ فِی الْاِسْلَامِ وَلَا سِیَاحَۃَ 1 اسلام میں نہ رہبانیت ہے نہ سیاحت۔ سابقہ ادیان کے برعکس اسلام نے سیاحت اور رہبانیت کا جو تصور متعارف کرایا ہے اس کے لیے ابوامامہ باہلی رض سے مروی یہ حدیث ملاحظہ کیجیے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اِنَّ لِکُلِّ اُمَّۃٍ سِیَاحَۃَ وَاِنَّ سِیَاحَۃَ اُمَّتِی الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ‘ وَاِنَّ لِکُلِّ اُمَّۃٍ رَہْبَانِیَّۃٌ وَرَھْبَانِیَّۃُ اُمَّتِی الرِّبَاطُ فِیْ نُحُوْرِ الْعَدُوِّ 2 ہر امت کے لیے سیاحت کا ایک طریقہ تھا اور میری امت کی سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے ‘ اور ہر امت کی ایک رہبانیت تھی ‘ جبکہ میری امت کی رہبانیت دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونا ہے ایک صحابی رض نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ‘ مجھے سیاحت کی اجازت دیجیے تو آپ ﷺ نے فرمایا : اِنَّ سِیَاحَۃَ اُمَّتِی الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ 3گویا ہماری امت کے لیے ’ سیاحت ‘ کا اطلاق جہاد و قتال کے لیے گھر سے نکلنے اور اس راستے میں صعوبتیں اٹھانے پر ہوگا۔یہ چھ اوصاف جو اوپر گنوائے گئے ہیں ان کا تعلق انسانی شخصیت کے نظریاتی پہلو سے ہے۔ اب اس کے بعد تین ایسی خصوصیات کا ذکر ہونے جا رہا ہے جو انسان کی عملی جدوجہد سے متعلق ہیں اور دعوت و تحریک کی صورت میں معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔الْاٰمِرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاہُوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰہِط وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ امر بالمعروف گویا دین کے لیے عملی جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے۔ یہ جدوجہد جب آگے بڑھ کر نہی عن المنکر بالید کے مرحلے تک پہنچتی ہے تو پھر ان خدائی فوجداروں کی ضرورت پڑتی ہے جن کو یہاں وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰہِط کا لقب دیا گیا ہے۔ یہ لوگ اگر پوری طرح منظم ہوں تو اپنی تنظیمی طاقت کے بل پر کھڑے ہو کر اعلان کریں کہ اب ہم اپنے معاشرے میں منکرات کا سکہ نہیں چلنے دیں گے اور کسی کو اللہ کی حدود کو توڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اللّٰھم رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! منہج انقلاب نبوی ﷺ میں اس مرحلے کے ضمن میں آج اجتہاد کی ضرورت ہے کہ موجودہ حالات میں نہی عن المنکر بالید کے لیے اجتماعی اور منظم جدوجہد کی صورت کیا ہوگی۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة