تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
١١٣:٩
ما كان للنبي والذين امنوا ان يستغفروا للمشركين ولو كانوا اولي قربى من بعد ما تبين لهم انهم اصحاب الجحيم ١١٣
مَا كَانَ لِلنَّبِىِّ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَن يَسْتَغْفِرُوا۟ لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوٓا۟ أُو۟لِى قُرْبَىٰ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَـٰبُ ٱلْجَحِيمِ ١١٣
مَا
كَانَ
لِلنَّبِيِّ
وَٱلَّذِينَ
ءَامَنُوٓاْ
أَن
يَسۡتَغۡفِرُواْ
لِلۡمُشۡرِكِينَ
وَلَوۡ
كَانُوٓاْ
أُوْلِي
قُرۡبَىٰ
مِنۢ
بَعۡدِ
مَا
تَبَيَّنَ
لَهُمۡ
أَنَّهُمۡ
أَصۡحَٰبُ
ٱلۡجَحِيمِ
١١٣
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 9:113إلى 9:116

ایک شخص کافر ومشرک ہو اور اس کے سامنے اتمام حجت کی حد تک دین کی دعوت آجائے، اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے تو خداکے قانون کے مطابق وہ جہنمی ہوجاتاہے۔ ایسے شخص کے ليے اس کے بعد نجات کی دعا کرنا گویا ایمان کو بے وقعت بنانا اور خدائی انصاف کی تردید کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسی دعا سے منع کردیاگیا۔

تاہم آیت میں مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَکا لفظ بتاتا ہے کہ اس حکم کا تعلق زمانہ رسالت کے مشرکین سے ہے جن کے بارے میں وحی کے ذریعہ بتا دیاگیا تھا کہ وہ جہنمی ہیں ۔ ان آیات کا پس منظر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آپ منافقین کی نماز جنازہ نہ پڑھیں اور ان کے حق میں مغفرت کی دعا نہ کریں (التوبہ، 9:84 ) یہ بات مدینہ کے منافقوں کو بہت ناگوار ہوئی۔ انھوں نے اس کو لے کر آپ کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردیا۔ وہ کہتے کہ یہ نبی تو نبی رحمت ہیں اور اپنے کو ابراہیم کا پیرو بتاتے ہیں ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے بھائیوں اور اپنے رشتہ داروں کے ليے استغفار سے روکتے ہیں ۔ حالاں کہ ابراہیم کا حال یہ تھا کہ اپنے مشرک باپ کے لیے بھی انھوں نے مغفرت کی دعا کی۔

جوا ب دیا گیا کہ ابراہیم بڑے درد مند اور انسانیت کے غم میں گھلنے والے تھے۔ اپنے اس جذبہ کے تحت انھوں نے عہد کرلیاکہ وہ اپنے مشرک باپ کے حق میں خدا سے دعا کریں گے۔ مگر جب وحی نے تنبیہ کی تو اس کے بعد وہ فوراً اس سے باز آگئے۔

اللہ نے ہر آدمی کی اند ربرائی کی فطری تمیز رکھی ہے۔ جب آدمی کے سامنے ایک ایسا پیغام آتاہے جو اس کو برائی سے روکتا ہے تو اس کا وجود اندر سے اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کے دل کے اندر ایک خاموش کھٹک پیداہوتی ہے۔ آدمی اگر اس کھٹک کو نظر انداز کردے، وہ فطرت کی گواہی کے باوجود بچنے والی چیز سے نہ بچے تو اس کی فطری حساسیت کمزور پڑ جاتی ہے، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے بالکل مردہ ہوجاتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو گم راہ کرنے سے تعبیر کیاگیا ہے۔ ’’ہدایت دینے کے بعد گمراہ کرنا‘‘ کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ اس کا خطرہ مسلمانوں کے ليے بھی اسی طرح ہے جس طرح غیر مسلموں کے ليے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة