تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٧:٩
كيف يكون للمشركين عهد عند الله وعند رسوله الا الذين عاهدتم عند المسجد الحرام فما استقاموا لكم فاستقيموا لهم ان الله يحب المتقين ٧
كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِۦٓ إِلَّا ٱلَّذِينَ عَـٰهَدتُّمْ عِندَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۖ فَمَا ٱسْتَقَـٰمُوا۟ لَكُمْ فَٱسْتَقِيمُوا۟ لَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ ٧
كَيۡفَ
يَكُونُ
لِلۡمُشۡرِكِينَ
عَهۡدٌ
عِندَ
ٱللَّهِ
وَعِندَ
رَسُولِهِۦٓ
إِلَّا
ٱلَّذِينَ
عَٰهَدتُّمۡ
عِندَ
ٱلۡمَسۡجِدِ
ٱلۡحَرَامِۖ
فَمَا
ٱسۡتَقَٰمُواْ
لَكُمۡ
فَٱسۡتَقِيمُواْ
لَهُمۡۚ
إِنَّ
ٱللَّهَ
يُحِبُّ
ٱلۡمُتَّقِينَ
٧
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 9:7إلى 9:11

مسلمانوں کو جب زور حاصل ہوگیا تو قریش نے ان سے معاہدے کرليے۔ تاہم وہ ان معاہدوں سے خوش نہ تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اپنے ’’دشمن‘‘ سے یہ معاہدہ انھوں نے اپنی بربادی کی قیمت پر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر وقت اس انتظار میں رہتے تھے کہ جہاں موقع ملے معاہدہ کی خلاف ورزی کرکے مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں یا کم ازکم انھیں بدنام کریں ۔ ظاہر ہے کہ جب ایک فریق کی طرف سے اس قسم کی خیانت کا مظاہرہ ہو تو دوسرے فریق کے ليے کسی معاہدہ کی پابندی ضروری نہیں رہتی۔

یہ قریش کا حال تھا ،جن کو مسلمانوں کے عروج میں اپنی قیادت چھنتی ہوئی نظرآتی تھی۔ تاہم کچھ دوسرے عرب قبائل (بنو کنانہ، بنو خزاعہ، بنو ضمرہ) جو اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا نہ تھے، انھوں نے مسلمانوں سے معاہدے كيے اور اپنے معاہدے پر قائم رہے۔ جب چار ماہ کی مہلت کا اعلان کیاگیا تو ان کے معاہدہ کی میعاد پوری ہونے میں تقریباً نومہینے باقی تھے۔ حکم ہوا کہ ان سے معاہدہ کو آخر وقت تک باقی رکھو، کیوں کہ تقویٰ کا تقاضا یہی ہے۔ مگر اس مدت کے ختم ہونے کے بعد پھر کسی سے اس قسم کا معاہدہ نہیں کیا گیا اور تمام مشرکین کے سامنے صرف دو صورتیں باقی رکھی گئیں یا اسلام لائیں یا جنگ کے ليے تیار ہوجائیں ۔

معاشرتی زندگی کی بنیاد ہمیشہ دو چیزوں پر ہوتی ہے— رشتہ داری یا قول وقرار۔ جن سے رحمی رشتے ہیں ان کے حقوق کا لحاظ آدمی رحمی رشتوں کی بنیاد پر کرتاہے۔ اور جن سے قول وقرار ہوچکا ہے ان سے قول وقرار کی بنا پر۔ مگر جب آدمی کے اوپر دنیا کے مفاد اور اس کی مصلحت کا غلبہ ہوتا ہے تو وہ دونوں باتوں کو بھول جاتاہے۔ وہ اپنے حقیر فائدہ کی خاطر رحمی حقوق کو بھی بھول جاتا ہے اور قول وقرار کو بھی۔ ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں ۔ وہ خدا کی نظر میں مجرم ہیں ۔ دنیا میں اگر وہ چھوٹ گئے تو آخرت میں وہ خدا کی پکڑ سے بچ نہ سکیں گے۔ إلاّ یہ کہ وہ توبہ کریں اور سرکشی سے باز آئیں ۔ کوئی شخص ماضی میں خواہ کتنا ہی برارہا ہو مگر جب وہ اصلاح قبول کرلے تو وہ اسلامی برادری کا ایک معزز رکن بن جاتا ہے۔ اس کے بعد اس میں اور دوسرے مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة