تسجيل الدخول
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
🚀 انضم إلى تحدي رمضان!
تعرف على المزيد
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
٩٧:٩
الاعراب اشد كفرا ونفاقا واجدر الا يعلموا حدود ما انزل الله على رسوله والله عليم حكيم ٩٧
ٱلْأَعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًۭا وَنِفَاقًۭا وَأَجْدَرُ أَلَّا يَعْلَمُوا۟ حُدُودَ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ ٩٧
ٱلۡأَعۡرَابُ
أَشَدُّ
كُفۡرٗا
وَنِفَاقٗا
وَأَجۡدَرُ
أَلَّا
يَعۡلَمُواْ
حُدُودَ
مَآ
أَنزَلَ
ٱللَّهُ
عَلَىٰ
رَسُولِهِۦۗ
وَٱللَّهُ
عَلِيمٌ
حَكِيمٞ
٩٧
تفاسير
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 9:97إلى 9:99

حدیث میں آیا ہے کہ جس نے دیہات میں سکونت اختیار کی وہ سخت مزاج ہوجائے گا (مَنْ سَكَنَ البَادِيَةَ جَفَا) سنن الترمذی، حدیث نمبر 2256۔ شہر کے اندر علمی ماحول ہوتا ہے، تعلیمی ادارے قائم ہوتے ہیں ۔ وہاں علم وفن کا چرچا رہتا ہے۔ جب کہ دیہات میں لوگوں کو اس کے مواقع حاصل نہیں ہوتے۔ اسی کے ساتھ دیہات کے لوگوں کے رہن سہن کے طریقے اور ان کے معاشی ذرائع بھی نسبتاً معمولی ہوتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دیہات کے لوگوں کے اندر زیادہ گہرا شعور پیدا نہیں ہوتا۔ ان کی طبیعت میں سختی اور ان کے سوچنے کے انداز میں سطحیت پائی جاتی ہے۔ ان کے ليے مشکل ہوتا ہے کہ وہ دین کی نزاکتوں کو سمجھیں اور ان کو اپنے اندر اتاریں ۔

اللہ ہر بات کو جانتا ہے اور اسی کے ساتھ وہ حکیم اور رحیم بھی ہے۔ وہ دیہات کے لوگوں ، بالفاظ دیگر عوام، کی اس کمزوری سے باخبر ہے اور اپنی حکمت ورحمت کی بنا پر انھیں اس کی پوری رعایت دیتاہے۔ چنانچہ ایسے لوگوں سے خدا کا مطالبہ یہ نہیں ہے کہ وہ گہری معرفت اور اعلیٰ دین داری کا ثبوت دیں ۔ وہ اگر نیک نیت ہوں تو خدا ان سے سادہ دین داری پر راضی ہوجائے گا۔

عوام کی دین داری یہ ہے کہ وہ سچے دل سے خدا کا اقرار کریں ۔ اپنے اندر اس احساس کو تازہ رکھیں کہ آخرت کا ایک دن آنے والا ہے۔ وہ اپنی کمائی کا ایک حصہ خدا کی راہ میں دیں اور یہ سمجھیں کہ اس کے ذریعہ سے انھیں خدا کی قربت اور برکت حاصل ہوگی۔ وہ خدا کی نمائندگی کرنے والے پیغمبر کو خوش کرکے اس کی دعائیں لینے کے طالب ہوں ۔ یہ دین داری کی عوامی سطح ہے، اور اگر آدمی کی نیت میں بگاڑ نہ ہو تو اس کا خدا اس سے اسی سادہ دین داری کو قبول کرلے گا۔

لیکن اگر عوام ایسا کریں کہ وہ خدااور اس کے احکام سے بالکل غافل ہوجائیں ، ان کو دین سے اتنی بے تعلقی ہو کہ دین کی راہ میں کچھ خرچ کرنا ان کو جرمانہ معلوم ہونے لگے، اسلام کی ترقی سے انھیں وحشت ہوتی ہو تو بلاشبہ وہ ناقابل معافی ہیں ۔ عوام کی کم فہمی کی بنا پر ان کو یہ رعایت تو ضرور دی جاسکتی ہے کہ ان سے گہری دین داری کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ لیکن ان کی کم فہمی اگر سرکشی اور اسلام کے ساتھ بے وفائی کی صورت اختیار کرلے تو وہ کسی حال میں بخشے نہیں جاسکتے۔

Notes placeholders
اقرأ واستمع وابحث وتدبر في القرآن الكريم

Quran.com منصة موثوقة يستخدمها ملايين الأشخاص حول العالم لقراءة القرآن الكريم والبحث فيه والاستماع إليه والتدبر فيه بعدة لغات. كما يوفر الموقع ترجمات وتفسيرات وتلاوات وترجمة كلمة بكلمة وأدوات للدراسة العميقة، مما يجعل القرآن الكريم في متناول الجميع.

كصدقة جارية، يكرّس Quran.com جهوده لمساعدة الناس على التواصل العميق مع القرآن الكريم. بدعم من Quran.Foundation، وهي منظمة غير ربحية 501(c)(3)، يواصل Quran.com في التقدم و النمو كمصدر مجاني وقيم للجميع، الحمد لله.

تصفّح
الصفحة الرئيسة
راديو القرآن الكريم
القرّاء
معلومات عنا
المطورون
تحديثات المنتج
الملاحظات
مساعدة
مشاريعنا
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
المشاريع غير الربحية التي تملكها أو تديرها أو ترعاها Quran.Foundation
الروابط الأكثر شيوعًا

آية الكرسي

يس

الملك

الرّحمن

الواقعة

الكهف

المزّمّل

خريطة الموقـعالخصوصيةالشروط والأحكام
© ٢٠٢٦ Quran.com. كل الحقوق محفوظة