Iniciar sesión
¡Únete a nuestro desafío de Ramadán!
Más información
¡Únete a nuestro desafío de Ramadán!
Más información
Iniciar sesión
Iniciar sesión
106:2
ايلافهم رحلة الشتاء والصيف ٢
إِۦلَـٰفِهِمْ رِحْلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيْفِ ٢
إِۦلَٰفِهِمۡ
رِحۡلَةَ
ٱلشِّتَآءِ
وَٱلصَّيۡفِ
٢
e hice que sus caravanas en invierno [al Yemen] y en verano [a Siria] fueran respetadas.
Tafsires
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 106:1 hasta 106:4
قریشیوں کے سات فضائل:

اس کی فضیلت میں ایک غریب حدیث بیہقی کی کتاب خلافیات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے قریشیوں کو سات فضیلتیں دی ہیں ایک تو یہ کہ میں ان میں سے ہوں، دوسرے یہ کہ نبوت ان میں ہے، تیسرے یہ کہ بیت اللہ کے پاسبان یہ ہیں، چوتھے یہ کہ چاہ زمزم کے ساقی یہ ہیں، پانچویں یہ کہ اللہ نے انہیں ہاتھی والوں پر غالب کیا، چھٹے یہ کہ دس سال تک انہوں نے اللہ کی عبادت کی جبکہ اور کوئی عبادت اللہ کی نہ کرتا تھا، ساتویں یہ کہ ان کے بارے میں قرآن کریم کی یہ سورت نازل ہوئی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «بسم الله»، الخ پڑھ کر یہ سورت تلاوت کی۔ [مستدرك حاكم:536/2،إسناده ضعيف‏]

امن و امان کی ضمانت ٭٭

موجودہ عثمانی قرآن کی ترتیب میں یہ سورت سورۃ الفیل سے علیحدہ ہے اور دونوں کے درمیان «بسم الله» کی آیت کا فاصلہ ہے، مضمون کے اعتبار سے یہ سورت پہلی سے ہی متعلق ہے جیسے کہ محمد بن اسحاق عبدالرحمن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ نے تصریح کی ہے اس بنا پر معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے مکہ سے ہاتھیوں کو روکا اور ہاتھی والوں کو ہلاک کیا۔ یہ قریشیوں کو الفت دلانے اور انہیں اجتماع کے ساتھ باامن اس شہر میں رہنے سہنے کے لیے تھا۔

اور یہ مراد بھی کی گئی ہے کہ یہ قریشی جاڑوں اور گرمیوں میں کیا دور دراز کے سفر امن و امان سے طے کر سکتے تھے کیونکہ مکہ جیسے محترم شہر میں رہنے کی وجہ سے ہر جگہ ان کی عزت ہوتی تھی بلکہ ان کے ساتھ بھی جو ہوتا تھا امن و امان سے سفر طے کر لیتا تھا اسی طرح وطن میں ہر طرح کا امن انہیں حاصل ہوتا تھا۔ جیسے اور جگہ قرآن کریم میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ» [29-العنكبوت:67] ‏ الخ یعنی ” کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والی جگہ بنا دیا ہے اس کے آس پاس تو لوگ اچک لیے جاتے ہیں “، لیکن یہاں کے رہنے والے نڈر ہیں۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «لِإِيلَافِ»، میں پہلا «لام» تعجب کا «لام» ہے اور دونوں سورتیں بالکل جداگانہ ہیں جیسا کہ مسلمانوں کا اجماع ہے۔ تو گویا یوں فرمایا جا رہا ہے کہ تم قریشیوں کے اس اجتماع اور الفت پر تعجب کرو کہ میں نے انہیں کیسی بھاری نعمت عطا فرما رکھی ہے انہیں چاہیئے کہ میری اس نعمت کا شکر اس طرح ادا کریں کہ صرف میری ہی عبادت کرتے رہیں۔

جیسے اور جگہ ہے «إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَـٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» [27-النمل:91] ‏، یعنی ” اے نبی تم کہہ دو کہ مجھے تو صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرم بنایا جو ہر چیز کا مالک ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کا مطیع اور فرمانبردار رہوں “۔

10868

پھر فرماتا ہے وہ رب بیت جس نے انہیں بھوک میں کھلایا اور خوف میں نڈر رکھا انہیں چاہیئے کہ اس کی عبادت میں کسی چھوٹے بڑے کو شریک نہ ٹھہرائیں جو اللہ کے اس حکم کی بجا آوری کرے گا وہ تو دنیا کے اس امن کے ساتھ آخرت کے دن بھی امن و امان سے رہے گا، اور اس کی نافرمانی کرنے سے یہ امن بھی بےامنی ہے اور آخرت کا امن بھی ڈر خوف اور انتہائی مایوسی سے بدل جائے گا۔

جیسے اور جگہ فرمایا: «وَضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّـهِ فَأَذَاقَهَا اللَّـهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ» * «وَلَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظَالِمُونَ» [16-النحل:112-113] ‏ یعنی ” اللہ تعالیٰ ان بستی والوں کی مثال بیان فرماتا ہے جو امن و اطمینان کے ساتھ تھے ہر جگہ سے بافراغت روزیاں کھچی چلی آتی تھیں لیکن انہیں اللہ کی ناشکری کرنے کی سوجھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بھوک اور خوف کا لباس چکھا دیا یہی ان کے کرتوت کا بدلہ تھا ان کے پاس ان ہی میں سے اللہ کے بھیجے ہوئے آئے لیکن انہوں نے انہیں جھٹلایا اس ظلم پر اللہ کے عذابوں نے انہیں گرفتار کر لیا “۔

ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریشیو! تمہیں تو اللہ یوں راحت و آرام پہنچائے گھر بیٹھے کھلائے پلائے چاروں طرف بدامنی کی آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں اور تمہیں امن و امان سے میٹھی نیند سلائے پھر تم پر کیا مصیبت ہے جو تم اپنے اس پروردگار کی توحید سے جی چراؤ اور اس کی عبادت میں دل نہ لگاؤ بلکہ اس کے سوا دو سروں کے آگے سر جھکاؤ“ ۔ [مسند احمد:460/6:اسناد ضعیف] ‏

«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ قريش کی تفسیر ختم ہوئی۔

10869
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lea, escuche, busque y reflexione sobre el Corán

Quran.com es una plataforma confiable utilizada por millones de personas en todo el mundo para leer, buscar, escuchar y reflexionar sobre el Corán en varios idiomas. Ofrece traducciones, tafsir, recitaciones, traducción palabra por palabra y herramientas para un estudio más profundo, haciendo que el Corán sea accesible para todos.

Como Sadaqah Jariyah, Quran.com se dedica a ayudar a las personas a conectar profundamente con el Corán. Con el apoyo de Quran.Foundation , una organización sin fines de lucro 501(c)(3), Quran.com continúa creciendo como un recurso gratuito y valioso para todos, Alhamdulillah.

Navegar
Inicio
Radio Coránica
Recitadores
Sobre nosotros
Desarrolladores
Actualizaciones de productos
Retroalimentación
Ayuda
Nuestros Proyectos
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyectos sin fines de lucro adquiridos, administrados o patrocinados por Quran.Foundation
Enlaces populares

Ayatul Kursi

Yasin

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqiah

Al-Kahf

Al Muzzammil

Mapa del sitio webPrivacidadTérminos y condiciones
© 2026 Quran.com. Reservados todos los derechos