Iniciar sesión
¡Únete a nuestro desafío de Ramadán!
Más información
¡Únete a nuestro desafío de Ramadán!
Más información
Iniciar sesión
Iniciar sesión
2:58
واذ قلنا ادخلوا هاذه القرية فكلوا منها حيث شيتم رغدا وادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة نغفر لكم خطاياكم وسنزيد المحسنين ٥٨
وَإِذْ قُلْنَا ٱدْخُلُوا۟ هَـٰذِهِ ٱلْقَرْيَةَ فَكُلُوا۟ مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًۭا وَٱدْخُلُوا۟ ٱلْبَابَ سُجَّدًۭا وَقُولُوا۟ حِطَّةٌۭ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَـٰيَـٰكُمْ ۚ وَسَنَزِيدُ ٱلْمُحْسِنِينَ ٥٨
وَإِذۡ
قُلۡنَا
ٱدۡخُلُواْ
هَٰذِهِ
ٱلۡقَرۡيَةَ
فَكُلُواْ
مِنۡهَا
حَيۡثُ
شِئۡتُمۡ
رَغَدٗا
وَٱدۡخُلُواْ
ٱلۡبَابَ
سُجَّدٗا
وَقُولُواْ
حِطَّةٞ
نَّغۡفِرۡ
لَكُمۡ
خَطَٰيَٰكُمۡۚ
وَسَنَزِيدُ
ٱلۡمُحۡسِنِينَ
٥٨
[recuerden] cuando les dije: “Entren en esta ciudad [Jerusalén] y coman de ella cuanto deseen en abundancia, pero entren por la puerta prosternándose, suplicando: ¡Perdónanos! Que perdonaré sus pecados, y les concederé aún más a los que hacen el bien”.
Tafsires
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 2:58 hasta 2:59
یہود کی پھر حکم عدولی ٭٭

جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے آئے اور انہیں ارض مقدس میں داخل ہونے کا حکم ہوا جو ان کی موروثی زمین تھی ان سے کہا گیا کہ یہاں جو عمالیق ہیں ان سے جہاد کرو تو ان لوگوں نے نامردی دکھائی جس کی سزا میں انہیں میدان تیہ میں ڈال دیا گیا جیسے کہ سورۃ المائدہ میں ذکر ہے «يَا قَوْمِ ادْخُلُوا الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِي كَتَبَ اللَّـهُ» [ 5-المائدة: 21 - 24 ] ‏ الخ، قریہ سے مراد بیت المقدس ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:181/1] ‏ سدی، ربیع، قتادہ، ابو مسلم رحمہ اللہ علیہم وغیرہ نے یہی کہا ہے، قرآن میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اس پاک زمین میں جاؤ جو تمہارے لیے لکھ دی گئی ہے بعض کہتے ہیں اس سے مراد ”اریحا“ ہے بعض نے کہا ہے مصر مراد ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے کہ مراد اس سے بیت المقدس ہے

یہ واقعہ تیہ سے نکلنے کے بعد کا ہے جمعہ کے دن شام کو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس پر فتح عطا کی بلکہ سورج کو ان کے لیے ذرا سی دیر ٹھہرا دیا تھا تاکہ فتح ہو جائے فتح کے بعد انہیں حکم ہوا کہ اس شہر میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں۔ جو اس فتح کی اظہار تشکر کا مظہر ہو گا۔

صفحہ نمبر288

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سجدے سے مراد رکوع لیا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:113/2] ‏ راوی کہتے ہیں کہ سجدے سے مراد یہاں پر خشوع خضوع ہے کیونکہ حقیقت پر اسے محمول کرنا ناممکن ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں یہ دروازہ قبلہ کی جانب تھا اس کا نام باب الحطةٰ تھا۔ رازی رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ دروازے سے مراد جہت قبلہ ہے۔ بجائے سجدے کے اس قوم نے اپنی رانوں پر کھسکنا شروع کیا اور کروٹ کے بل داخل ہونے لگے سروں کو جھکانے کے بجائے اور اونچا کر لیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:183/1] ‏ حطتہ کے معنی بخشش کے ہیں۔ [ایضاً] ‏ بعض نے کہا ہے کہ یہ امر حق ہے عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں اس سے مراد [ لا الہٰ الا اللہ ] ‏ کہنا ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ان میں گناہوں کا اقرار ہے حسن اور قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں اللہ ہماری خطاؤں کو ہم سے دور کر دے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:185/1] ‏پھر ان سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ اگر تم اسی طرح یہی کہتے ہوئے شہر میں جاؤ گے اور اس فتح کے وقت بھی اپنی پستی اور اللہ کی نعمت اور اپنے گناہوں کا اقرار کرو گے اور مجھ سے بخشش مانگو تو چونکہ یہ چیزیں مجھے بہت ہی پسند ہیں میں تمہاری خطاؤں سے درگزر کر لوں گا۔

فتح مکہ کے موقع پر فرمان الٰہی سورۃ اذا جاء نازل ہوئی تھی۔ [110-النصر:1] ‏ اور اس میں بھی یہی حکم دیا گیا تھا کہ جب اللہ کی مدد آ جائے مکہ فتح ہو اور لوگ دین اللہ میں فوج در فوج آنے لگیں تو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم اپنے رب کی تسبیح اور حمد و ثنا بیان کرو اس سے استغفار کرو وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اس سورت میں جہاں ذکرو استغفار کا ذکر ہے وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت کی خبر تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہم کے سامنے اس سورت کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا تھا۔ [صحیح بخاری:4294] ‏ جسے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا جب مکہ فتح ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہر میں داخل ہوئے تو انتہائی تواضع اور مسکینی کے آثار آپ پر تھے یہاں تک کے سر جھکائے ہوئے تھے اونٹنی کے پالان سے سر لگ گیا تھا۔ شہر میں جاتے ہی غسل کر کے ضحیٰ کے وقت آٹھ رکعت نماز ادا کی۔ [صحیح بخاری:1103 ] ‏ جو ضحیٰ کی نماز بھی تھی اور فتح کے شکریہ کی بھی دونوں طرح کے قول محدثین کے ہیں۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے جب ملک ایران فتح کیا اور کسری کے شاہی محلات میں پہنچے تو اسی سنت کے مطابق آٹھ رکعتیں پڑھیں دو دو رکعت ایک سلام سے پڑھنے کا بعض کا مذہب ہے اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آٹھ ایک ساتھ ایک ہی سلام سے پڑھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر289

صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بنی اسرائیل کو حکم کیا گیا کہ وہ سجدہ کرتے ہوئے اور [حِطَّةٌ] ‏ کہتے ہوئے دروازے میں داخل ہوں لیکن انہوں نے بدل دیا اور اپنی رانوں پر گھسٹتے ہوئے اور [حِطَّةٌ] ‏ کے بجائے [حَبَّةٌ فِیْ شَعْرَةٍ] ‏ کہتے ہوئے جانے لگے۔ [صحیح بخاری:4479] ‏ نسائی، عبدالرزاق، ابوداؤد، مسلم اور ترمذی میں بھی یہ حدیث بہ اختلاف الفاظ موجود ہے اور سنداً صحیح ہے۔ [صحیح بخاری:4479] ‏

صفحہ نمبر290

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے۔ ذات الحنطل نامی گھاٹی کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس گھاٹی کی مثال بھی بنی اسرائیل کے اس دروازے جیسی ہے جہاں انہیں سجدہ کرتے ہوئے اور حِطَّةٌ کہتے ہوئے داخل ہونے کو کہا گیا تھا اور ان کے گناہوں کی معافی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ [مسند بزار 1812:ضعیف] ‏ برآء فرماتے ہیں سَيَقُوْلُ السُّفَهَاءُ میں السُّفَهَاءُ یعنی جاہلوں سے مراد یہود ہیں جنہوں نے اللہ کی بات کو بدل دیا تھا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حِطَّةٌ کے بدلے انہوں نے حنطۃ حبتہ حمراء فیھا شعیرۃ کہا تھا ان کی اپنی زبان میں ان کے الفاظ یہ تھے ھطا سمعانا ازبتہ مزبا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی ان کی اس لفظی تبدیلی کو بیان فرماتے ہیں کہ رکوع کرنے کے بدلے وہ رانوں پر گھسٹتے ہوئے اور حِطَّةٌ کے بدلے حنطۃ کہتے ہوئے داخل ہوئے عطا، مجاہد، عکرمہ، ضحاک، حسن، قتادہ، ربیع، یحییٰ رحمہ اللہ علیہم نے بھی یہی بیان کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس قول و فعل کا انہیں حکم دیا گیا تھا انہوں نے مذاق اڑایا جو صریح مخالفت اور معاندت تھی اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب نازل فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ظالموں پر ان کے فسق کی وجہ سے آسمانی عذاب نازل فرمایا۔ رجز سے مراد عذاب ہے کوئی کہتا ہے غضب ہے کسی نے طاعون کہا ہے ایک مرفوع حدیث ہے طاعون رجز ہے اور یہ عذاب تم سے اگلے لوگوں پر اتارا گیا تھا۔ [صحیح مسلم:2218] ‏ بخاری اور مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب تم سنو کہ فلاں جگہ طاعون ہے تو وہاں نہ جاؤ الخ [صحیح بخاری:5728] ‏ ابن جریر میں ہے کہ یہ دکھ اور بیماری رجز ہے تم سے پہلے لوگ انہی سے عذاب دئیے گئے تھے۔ [صحیح بخاری:3473] ‏

صفحہ نمبر291
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lea, escuche, busque y reflexione sobre el Corán

Quran.com es una plataforma confiable utilizada por millones de personas en todo el mundo para leer, buscar, escuchar y reflexionar sobre el Corán en varios idiomas. Ofrece traducciones, tafsir, recitaciones, traducción palabra por palabra y herramientas para un estudio más profundo, haciendo que el Corán sea accesible para todos.

Como Sadaqah Jariyah, Quran.com se dedica a ayudar a las personas a conectar profundamente con el Corán. Con el apoyo de Quran.Foundation , una organización sin fines de lucro 501(c)(3), Quran.com continúa creciendo como un recurso gratuito y valioso para todos, Alhamdulillah.

Navegar
Inicio
Radio Coránica
Recitadores
Sobre nosotros
Desarrolladores
Actualizaciones de productos
Retroalimentación
Ayuda
Nuestros Proyectos
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyectos sin fines de lucro adquiridos, administrados o patrocinados por Quran.Foundation
Enlaces populares

Ayatul Kursi

Yasin

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqiah

Al-Kahf

Al Muzzammil

Mapa del sitio webPrivacidadTérminos y condiciones
© 2026 Quran.com. Reservados todos los derechos