Iniciar sesión
¡Únete a nuestro desafío de Ramadán!
Más información
¡Únete a nuestro desafío de Ramadán!
Más información
Iniciar sesión
Iniciar sesión
37:162
ما انتم عليه بفاتنين ١٦٢
مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ بِفَـٰتِنِينَ ١٦٢
مَآ
أَنتُمۡ
عَلَيۡهِ
بِفَٰتِنِينَ
١٦٢
solo podrán desviar
Tafsires
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 37:161 hasta 37:170
فرشتوں کے اوصاف ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں سے فرما رہا ہے کہ ” تمہاری گمراہی اور شرک و کفر کی تعلیم وہی قبول کریں گے جو جہنم کے لیے پیدا کئے گئے ہوں۔ جو عقل سے خالی کانوں سے بہرے اور آنکھوں کے اندھے ہوں جو مثل چوپایوں کے بلکہ ان سے بھی بدرجہا بدتر ہوں “ [7-الأعراف:179] ‏۔

جیسے اور جگہ فرمایا ہے کہ ” اس سے وہی گمراہ ہو سکتے ہیں جو دماغ کے خالی اور باطل کے شیدائی ہوں “ [51-الذاريات:9-8] ‏۔ ازاں بعد فرشتوں کی برأت اور ان کی تسلی و رضا ایمان و اطاعت کا ذکر فرمایا کہ ” وہ خود کہتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقرر جگہ اور ایک مقام عبادت مخصوص ہے جس سے نہ ہم ہٹ سکتے ہیں نہ اس میں کمی بیشی کر سکتے ہیں “۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ آسمان چر چرا رہا ہے اور واقع میں اسے چر چرانا بھی چاہیئے اس میں ایک قدم رکھنے جتنی جگہ بھی خالی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ رکوع سجدے میں پڑا ہوا نہ ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آیتوں کی تلاوت کی [الدر المنشور للسیوطی:539/5:موضوع] ‏ ایک روایت میں آسمان دنیا کا لفظ ہے [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1059،] ‏۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک بالشت بھر جگہ آسمانوں میں ایسی نہیں جہاں پر کسی نہ کسی فرشتے کے قدم یا پیشانی نہ ہو۔

صفحہ نمبر7635

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے تو مرد عورت ایک ساتھ نماز پڑھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد مردوں کو آگے بڑھا دیا گیا اور عورتوں کو پیچھے کر دیا گیا۔ ” اور ہم سب فرشتے صفہ بستہ عبادت اللہ کی کیا کرتے ہیں“۔ آیت «‏وَالصّــٰفّٰتِ صَفًّا» [ 37- الصافات: 1 ] ‏ کی تفسیر میں اس کا بیان گذر چکا ہے۔

ولید بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے تک نماز کی صفیں نہیں تھیں پھر صفیں مقرر ہو گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد لوگوں کی طرف منہ کر کے فرماتے تھے ”صفیں ٹھیک درست کرلو سیدھے کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم سے بھی فرشتوں کی طرف صف بندی چاہتا ہے۔ جیسے وہ فرماتے ہیں «وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ» “ [37-الصافات:165] ‏ ”اے فلاں آگے بڑھ اے فلاں پیچھے ہٹ۔‏“ پھر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر نماز شروع کرتے۔ [ابن ابی حاتم] ‏

صحیح مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہمیں تین فضیلتیں ایسی دی گئی ہیں جن میں اور کوئی ہمارے ساتھ نہیں۔ ہماری صفیں فرشتوں جیسی بنائی گئیں۔ ہمارے لیے ساری زمین مسجد بنائی گئی اور ہمارے لیے زمین کی مٹی پاک کرنے والی بنائی گئی ۔ [صحیح مسلم:522] ‏

” ہم اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرنے والے ہیں اس کی بزرگی اور بڑائی بیان کرتے ہیں۔ تمام نقصانوں سے اسے پاک مانتے ہیں۔ ہم سب فرشتے اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے سامنے اپنی پستی اور عاجزی کا اظہار کرنے والے ہیں “۔ پس یہ تینوں اوصاف فرشتوں کے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ تسبیح کرنے والوں سے مراد نماز پڑھنے والے ہیں۔

صفحہ نمبر7636

اور آیت میں ہے «وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا» [19-مريم:88] ‏، یعنی ” کفار نے کہا اللہ کی اولاد ہے “، اللہ اس سے پاک ہے البتہ فرشتے اس کے محترم بندے ہیں اس کے فرمان سے آگے نہیں بڑھتے، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں وہ ان کا آگا پیچھا بخوبی جانتا ہے وہ کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے بجز اس کے جس کے لیے رحمان راضی ہو وہ تو خوف اللہ سے تھرتھراتے رہتے ہیں۔

ان میں سے جو اپنے آپ کو لائق عبادت کہے ہم اسے جہنم میں جھونک دیں ظالموں کی سزا ہمارے ہاں یہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، اس سے پہلے تو یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی آ جائے جو ہمیں اللہ کی راہ کی تعلیم دیتا اور ہمارے سامنے اگلے لوگوں کے واقعات بطور نصیحت پیش کرتا اور ہمارے پاس کتاب اللہ لے آتا تو یقیناً ہم مخلص مسلمان بن جاتے۔

جیسے اور آیت میں ہے «‏وَأَقْسَمُوا بِاللَّـهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ‌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورً‌ا» [35-فاطر:42] ‏، یعنی ” بڑی پختہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اگر کوئی نبی کریم ہماری موجودگی میں آ جائیں تو ہم بڑے نیک بن جائیں گے اور ہدایت کی راہ کی طرف سب سے پہلے دوڑیں گے، لیکن جب نبی اللہ آ گئے تو بھاگ کھڑے ہوئے “۔

اور آیت میں فرمایا «‏أَن تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَىٰ طَائِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَ‌اسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ» الخ [6-الأنعام:156-157] ‏، پس یہاں فرمایا کہ ” جب یہ تمنا پوری ہوئی تو کفر کرنے لگے۔ اب انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ اللہ سے کفر کرنے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟“

صفحہ نمبر7637
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lea, escuche, busque y reflexione sobre el Corán

Quran.com es una plataforma confiable utilizada por millones de personas en todo el mundo para leer, buscar, escuchar y reflexionar sobre el Corán en varios idiomas. Ofrece traducciones, tafsir, recitaciones, traducción palabra por palabra y herramientas para un estudio más profundo, haciendo que el Corán sea accesible para todos.

Como Sadaqah Jariyah, Quran.com se dedica a ayudar a las personas a conectar profundamente con el Corán. Con el apoyo de Quran.Foundation , una organización sin fines de lucro 501(c)(3), Quran.com continúa creciendo como un recurso gratuito y valioso para todos, Alhamdulillah.

Navegar
Inicio
Radio Coránica
Recitadores
Sobre nosotros
Desarrolladores
Actualizaciones de productos
Retroalimentación
Ayuda
Nuestros Proyectos
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyectos sin fines de lucro adquiridos, administrados o patrocinados por Quran.Foundation
Enlaces populares

Ayatul Kursi

Yasin

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqiah

Al-Kahf

Al Muzzammil

Mapa del sitio webPrivacidadTérminos y condiciones
© 2026 Quran.com. Reservados todos los derechos