Iniciar sesión
¡Únete a nuestro desafío de Ramadán!
Más información
¡Únete a nuestro desafío de Ramadán!
Más información
Iniciar sesión
Iniciar sesión
98:5
وما امروا الا ليعبدوا الله مخلصين له الدين حنفاء ويقيموا الصلاة ويوتوا الزكاة وذالك دين القيمة ٥
وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ ۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلْقَيِّمَةِ ٥
وَمَآ
أُمِرُوٓاْ
إِلَّا
لِيَعۡبُدُواْ
ٱللَّهَ
مُخۡلِصِينَ
لَهُ
ٱلدِّينَ
حُنَفَآءَ
وَيُقِيمُواْ
ٱلصَّلَوٰةَ
وَيُؤۡتُواْ
ٱلزَّكَوٰةَۚ
وَذَٰلِكَ
دِينُ
ٱلۡقَيِّمَةِ
٥
En la que únicamente se les ordenaba que fueran monoteístas adorando solo a Dios con sinceridad, que realizaran la oración y pagaran el zakat, pues esa es la verdadera religión.
Tafsires
Lecciones
Reflexiones.
Respuestas
Qiraat
Estás leyendo un tafsir para el grupo de versículos 98:5 hasta 98:6

آیت 5{ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَلا حُنَفَآئَ } ”اور انہیں حکم نہیں ہوا تھا مگر یہ کہ وہ بندگی کریں اللہ کی ‘ اپنی اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے ‘ بالکل یکسو ہو کر“ یہ حکم گویا پورے دین کا خلاصہ ہے جو اس سے پہلے سورة الزمر آیات 2 ‘ 3 ‘ 11 اور 14 میں بہت تاکید اور شدومد کے ساتھ بیان ہوچکا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی پوری اطاعت کے ساتھ کریں۔ یہ نہیں کہ نماز بھی پڑھے جا رہے ہیں اور حرام خوریوں سے بھی باز نہیں آتے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اپنے نفس کی اطاعت بھی جاری ہے۔ ایسی آیات دراصل ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ جزوی بندگی اور ساجھے کی اطاعت اللہ تعالیٰ کو ہرگز قابل قبول نہیں۔ اور یہ کہ اگر ہم اس جرم کا ارتکاب کریں گے تو ہم بھی اسی وعید کے مستحق ہوں گے جو اس حوالے سے بنی اسرائیل کو سنائی گئی تھی۔ ملاحظہ ہوں اس وعید کے یہ الفاظ : { اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَـکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍج فَمَا جَزَآئُ مَنْ یَّـفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلاَّ خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِط } البقرۃ : 85 ”تو کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو نہیں مانتے ؟ تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میں سے سوائے ذلت و رسوائی کے دنیا کی زندگی میں ‘ اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف“۔ بلکہ اس حوالے سے اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اس آیت میں دنیا کے جس عذاب کا ذکر ہے { خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج } وہ اس وقت بحیثیت امت ہم پر مسلط ہو بھی چکا ہے۔ مقامِ عبرت ہے ! آج مسلمانوں کی آبادی دو ارب سے بھی زیادہ ہے ‘ دنیا کے بہترین خطے اور بہترین وسائل ان کے قبضے میں ہیں ‘ مگر اس کے باوجود عزت نام کی کوئی چیز ان کے پاس نہیں۔ بین الاقوامی معاملات کے حوالے سے مسلمان حکمرانوں کی حالت یہ ہے کہ ”کس نمی پرسد کہ بھیا کیستی ؟“ یعنی عالمی معاملات میں کوئی ان کی رائے لینا بھی گوارا نہیں کرتا۔ بلکہ مسلمان ملکوں کی اپنی پالیسیوں کا اختیار بھی ان کے پاس نہیں۔ ان کے سالانہ بجٹ بھی کہیں اور سے بن کر آتے ہیں۔ بہرحال اس آیت کے حکم کا مدعا یہی ہے کہ جسے اللہ کا ”بندہ“ بننا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی اس کے قانون کے تابع کر کے اس کے حضور پیش ہو۔ ”قیصر کا حصہ قیصر کو دو اور خدا کا حصہ خدا کو دو“ والا قانون اللہ تعالیٰ کو قابل قبول نہیں۔ چناچہ ایمان کے دعوے داروں کو چاہیے کہ وہ اللہ کی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے پوری یکسوئی کے ساتھ اس کی عبادت کریں۔ { وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ۔ } ”اور یہ کہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ‘ اور یہی ہے سیدھا اور سچا دین۔“ گویا ان الفاظ سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ”بندگی“ اور شے ہے ‘ جبکہ نماز اور زکوٰۃ اس کے علاوہ ہے۔ اس نکتے کو یوں سمجھیں کہ بندگی تو پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں دے دینے کا نام ہے۔ بقول شیخ سعدیؔ :زندگی آمد برائے بندگی زندگی بےبندگی شرمندگی !جبکہ نماز ‘ زکوٰۃ عبادات وغیرہ اس بندگی کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لوازمات ہیں ‘ تاکہ ان کے ذریعے سے بندہ اپنے رب کو مسلسل یاد کرتا رہے اور اس کا تعلق اپنے رب کے ساتھ ہردم ‘ ہر گھڑی تازہ رہے۔ حفیظ جالندھری کے اس خوبصورت شعر میں یہی فلسفہ بیان ہوا ہے : سرکشی نے کردیے دھندلے نقوش بندگی آئو سجدے میں گریں لوح جبیں تازہ کریں !گویا ہمارے ”نقوشِ بندگی“ نفس پرستی کی کثافتوں اور کدورتوں کے گرد و غبار سے اکثر دھندلا جاتے ہیں۔ چناچہ انہیں تازہ رکھنے کے لیے نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ اور دیگر مراسم عبودیت کے ذریعے ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور مسلسل حاضری دینے کی ضرورت رہتی ہے۔ جیسے ایک بندئہ مسلمان اپنی نماز پنجگانہ کی ہر رکعت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا یہ عہد تازہ کرتا ہے : { اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ 4 } کہ اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں اور مانگتے رہیں گے۔ تصور کیجیے اگر ایک بندہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ عہد پورے ارادے اور شعور کے ساتھ روزانہ بار بار دہرائے گا تو اس سے اس کے تعلق مع اللہ کے چمن میں تروتازگی کی کیسی کیسی بہاروں کا سماں بندھا رہے گا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
Lea, escuche, busque y reflexione sobre el Corán

Quran.com es una plataforma confiable utilizada por millones de personas en todo el mundo para leer, buscar, escuchar y reflexionar sobre el Corán en varios idiomas. Ofrece traducciones, tafsir, recitaciones, traducción palabra por palabra y herramientas para un estudio más profundo, haciendo que el Corán sea accesible para todos.

Como Sadaqah Jariyah, Quran.com se dedica a ayudar a las personas a conectar profundamente con el Corán. Con el apoyo de Quran.Foundation , una organización sin fines de lucro 501(c)(3), Quran.com continúa creciendo como un recurso gratuito y valioso para todos, Alhamdulillah.

Navegar
Inicio
Radio Coránica
Recitadores
Sobre nosotros
Desarrolladores
Actualizaciones de productos
Retroalimentación
Ayuda
Nuestros Proyectos
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
Proyectos sin fines de lucro adquiridos, administrados o patrocinados por Quran.Foundation
Enlaces populares

Ayatul Kursi

Yasin

Al Mulk

Ar-Rahman

Al Waqiah

Al-Kahf

Al Muzzammil

Mapa del sitio webPrivacidadTérminos y condiciones
© 2026 Quran.com. Reservados todos los derechos