وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۱۰۳:۱۲
وما اكثر الناس ولو حرصت بمومنين ١٠٣
وَمَآ أَكْثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِينَ ١٠٣
وَمَآ
أَكۡثَرُ
ٱلنَّاسِ
وَلَوۡ
حَرَصۡتَ
بِمُؤۡمِنِينَ
١٠٣
و بیشتر مردم – و اگر چه (بر ایمان‌شان) حرص ورزی – مؤمن نخواهند بود.
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 12:102 تا 12:104

حضرت یوسف کا قصہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر جاری ہوا وہ بجائے خود اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن وحی ربّانی ہے، نہ کہ کلام انسانی۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے پیش آیا۔ آپ نے اس واقعہ کونہ تو بطورخود دیکھا تھا اور نہ وہ کسی تاریخ میں لکھا ہوا تھا کہ آپ اس کو پڑھیں یا کسی سے پڑھوا کر سنیں۔ وہ صرف تورات کے صفحات میںتھا۔ اور پریس کے دور سے قبل تورات ایک ایسی کتاب تھی جس کی واقفیت صرف یہودی مراکز کے چند یہودی علماء کو ہوتی تھی، اور کسی کو نہیں۔

مزید یہ کہ قرآن میں اس واقعہ کو جس طرح بیان کیا گیا ہے، بنیادی طورپر تورات کے مطابق ہونے کے باوجود، تفصیلات میں وہ اس سے کافی مختلف ہے۔ یہ اختلاف بذات خود قرآن کے وحی الہٰی ہونے کا ثبوت ہے۔ کیونکہ جہاں جہاں دونوں میں اختلاف ہے وہاں قرآن کا بیان واضح طورپر عقل وفطرت کے مطابق معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کا بیان پڑھ کر واقعی یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کی پیغمبرانہ سیرت کے مناسب ہے جب کہ تورات کے بیانات پیغمبرانہ سیرت کے مناسب حال نہیں ۔ اسی طرح واقعہ کے کئی بے حد قیمتی اجزاء (مثلاً قید خانہ میں حضرت یوسف کی تقریر، آیت 37-40 ) جو قرآن میں منقول ہوئی ہے۔ بائبل یا تالمود میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ حتی کہ بعض تاریخی غلطیاں جو بائبل میں موجود ہیں ان کا اعادہ قرآن میں نہیں ہوا ہے۔ مثال کے طورپر بائبل حضرت یوسف کے زمانہ کے بادشاہ کو فرعون کہتی ہے۔ حالاں کہ فرعون کا خاندان حضرت یوسف کے پانچ سو سال بعد مصر میں حکمراں بنا ہے۔ حضرت یوسف کے زمانہ میں مصر میں ایک عرب خاندان حکومت کررہاتھا جس کو چرواہے بادشاہ (Hyksos kings) کہا جاتا ہے (تقابل کے ليے ملاحظہ ہو، بائبل، کتاب پیدائش)۔

حق کو نہ ماننے کا سبب اگر دلیل ہو تو دلیل سامنے آنے کے بعد آدمی فوراً اس کو مان لے گا۔ مگر اکثر حالات میں انکارِ حق کا سبب ہٹ دھرمی ہوتاہے۔ ایسے لوگ حق کو اس لیے نہیں مانتے کہ وہ اس کو ماننا نہیں چاہتے۔ حق کو ماننا اکثر حالات میں اپنے کو چھوٹا کرنے کے ہم معنی ہوتاہے، اور اپنے کو چھوٹا کرنا آدمی کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے لوگ ہر قسم کے دلائل اور قرائن سامنے آنے کے بعد بھی اپنی روش کو نہیں چھوڑتے۔ وہ اس کو گوارا کرلیتے ہیں کہ حق چھوٹا ہوجائے مگر وہ اپنے آپ کو چھوٹا کرنے پر راضی نہیں ہوتے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ جو دنیا میں اپنے آپ کو چھوٹا کرلے وہ آخرت میں بڑا کیا جائے گا۔ اور جو شخص دنیا میں اپنے كو چھوٹا نہ کرے وہی وہ شخص ہے جو آئندہ آنے والی دنیا میں ہمیشہ کے لیے چھوٹا ہو کر رہ جائے گا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است