وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۵۳:۱۲
۞ وما ابري نفسي ان النفس لامارة بالسوء الا ما رحم ربي ان ربي غفور رحيم ٥٣
۞ وَمَآ أُبَرِّئُ نَفْسِىٓ ۚ إِنَّ ٱلنَّفْسَ لَأَمَّارَةٌۢ بِٱلسُّوٓءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىٓ ۚ إِنَّ رَبِّى غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ٥٣
۞ وَمَآ
أُبَرِّئُ
نَفۡسِيٓۚ
إِنَّ
ٱلنَّفۡسَ
لَأَمَّارَةُۢ
بِٱلسُّوٓءِ
إِلَّا
مَا
رَحِمَ
رَبِّيٓۚ
إِنَّ
رَبِّي
غَفُورٞ
رَّحِيمٞ
٥٣
من هرگز نفس خود را تبرئه نمی‌کنم، بی‌شک نفس (اماره، انسان) پیوسته به بدی فرمان می‌دهد، مگر آنچه را پروردگارم رحم کند، بی‌گمان پروردگارم آمرزندۀ مهربان است».
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
باب

عزیز مصر کی بیوی کہہ رہی ہے کہ میں اپنی پاکیزگی بیان نہیں کر رہی اپنے آپ کو نہیں سراہتی۔ نفس انسانی تمناؤں اور بری باتوں کا مخزن ہے۔ اس میں ایسے جذبات اور شوق اچھلتے رہتے ہیں۔ وہ برائیوں پر ابھارتا رہتا ہے۔ اسی کے پھندے میں پھنس کر میں نے یوسف علیہ السلام کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ مگر جسے اللہ چاہے نفس کی برائی سے محفوظ رکھ لیتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ بخشش کرنا معافی دینا اس کی ابدی اور لازمی صفت ہے۔ یہ قول عزیز مصر کی عورت کا ہی ہے۔ یہی بات مشہور ہے اور زیادہ لائق ہے اور واقعہ کے بیان سے بھی زیادہ مناسب ہے۔ اور کلام کے معنی کے ساتھ بھی زیادہ موافق ہے۔ امام ماوردی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں اسے وارد کیا ہے۔ اور علامہ ابوالعباس امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تو اسے ایک مستقل تصنیف میں بیان فرمایا ہے اور اس کی پوری تائید کی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ قول یوسف علیہ السلام کا ہے۔ [َؐلِیَعْلَمَ] ‏ سے اس دوسری آیت کے ختم تک انہی کا فرمان ہے۔

ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے تو صرف یہی ایک قول نقل کیا ہے۔ چنانچہ ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بادشاہ نے عورتوں کو جمع کر کے جب ان سے پوچھا کہ کیا تم نے یوسف علیہ السلام کو بہلایا پھسلایا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ حاشاللہ ہم نے اس میں کوئی برائی نہیں دیکھی۔ اس وقت عزیز مصر کی بیوی نے اقرار کیا کہ واقعی حق تو یہی ہے۔

صفحہ نمبر4023

تو یوسف علیہ السلام نے فرمایا یہ سب اس لیے تھا کہ میری امانت درای کا یقین ہو جائے۔ جبرائیل علیہ السلام نے آپ علیہ السلام سے فرمایا وہ دن بھی یاد ہے؟ کہ آپ علیہ السلام نے کچھ ارادہ کر لیا تھا؟ تب آپ نے فرمایا میں اپنے نفس کی براءت تو نہیں کر رہا؟ بیشک نفس برائیوں کا حکم دیتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:237/7] ‏ الغرض ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ کلام یوسف علیہ السلام کا ہے۔ لیکن پہلا قول یعنی اس کلام کا عزیز کی موت کا کلام ہونا ہی زیادہ قوی اور زیادہ ظاہر ہے۔ اس لیے کہ اوپر سے انہی کا کلام چلا آ رہا ہے جو بادشاہ کے سامنے سب کی موجودگی میں ہو رہا تھا۔ اس وقت تو یوسف علیہ السلام وہاں موجود ہی نہ تھے۔ اس تمام قصے کے کھل جانے کے بعد بادشاہ نے آپ علیہ السلام کو بلوایا۔

صفحہ نمبر4024
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است