وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۸۵:۱۷
ويسالونك عن الروح قل الروح من امر ربي وما اوتيتم من العلم الا قليلا ٨٥
وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلرُّوحِ ۖ قُلِ ٱلرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّى وَمَآ أُوتِيتُم مِّنَ ٱلْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًۭا ٨٥
وَيَسۡـَٔلُونَكَ
عَنِ
ٱلرُّوحِۖ
قُلِ
ٱلرُّوحُ
مِنۡ
أَمۡرِ
رَبِّي
وَمَآ
أُوتِيتُم
مِّنَ
ٱلۡعِلۡمِ
إِلَّا
قَلِيلٗا
٨٥
و (ای پیامبر!) از تو دربارۀ روح سؤال می‌کنند، بگو: «روح از فرمان پروردگار من است، و جز اندکی از دانش به شما داده نشده است».
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط

یہاں روح سے مراد وحی الٰہی ہے۔ عرب کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا، وہ وحی والہام کے منکر نہ تھے۔ اس سوال کا رخ ان کے نزدیک رسول اللہ کی بے خبری کی طرف تھا، نہ کہ حقیقۃً اپنی بے خبري کی طرف۔

یہ وہ زمانہ تھا جب کہ رسول اللہ کے گرد عظمت کی تاریخ نہیں بنی تھی۔ لوگوں کو آپ محض ایک عام انسان نظر آتے تھے۔ چوں کہ انھیں یقین نہیں تھا کہ خدا کا فرشتہ آپ کے پاس خدا کی وحی لے کر آتا ہے۔ اس لیے انھوںنے آپ کا مذاق اڑانے کے لیے یہ سوال کیا۔

تاہم اس سوال کے جواب میں قرآن میں ایک اہم اصولی بات بتادی گئی۔ وہ یہ کہ انسان کو صرف ’’علم قلیل‘‘ دیاگیا ہے، وہ ’’علم کثیر‘‘ کا مالک نہیں ہے۔ اس لیے حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان سوالات میں نہ الجھے جن کو وہ اپنی پیدائشی کم علمی کی بنا پرجان نہیں سکتا۔

قدیم زمانہ میں انسان صرف آنکھ کے ذریعہ چیزوں کو دیکھ سکتاتھا۔ تاہم بصری مطالعہ نے بتایا کہ آنکھ صرف ایک حد تک کام کرتی ہے۔ اس لیے وہ کلی مطالعہ کے لیے کافی نہیں۔ مثلاً ایک چیزجو دور سے دیکھنے میںایک نظر آتی ہے، قریب سے جاکر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ دو تھیں۔

موجودہ زمانہ میں آلاتی مطالعہ وجود میں آیا تو انسان نے سمجھا کہ آلات اس کی محدودیت کا بدل ہیں۔ آلاتی مطالعہ کے ذریعے چیزوں کو ان کی آخری حد تک دیکھا جاسکتا ہے۔ مگر بیسویں صدی میں پہنچ کر اس خوش خیالی کا خاتمہ ہوگیا۔ اب معلوم ہوا کہ چیزیں اس سے زیادہ پيچیدہ اور اس سے زیادہ پراسرار ہیں کہ آلات کی مدد سے ان کو پوری طرح دیکھا جاسکے۔

ایسی حالت میں اجمالی علم پر قانع ہونا انسان کے لیے حقیقت پسندی کا تقاضا بن گیاہے، نہ کہ محض عقیدہ کا تقاضا۔ ہماری صلاحیتیں محدود ہیں اور ہم سے ماورا جو عالم ہے وہ لامحدود۔ پھر محدود کے لیے کس طرح ممکن ہے کہ وہ لامحدود کا احاطہ کرسکے۔ انسان کی محدودیت کا تقاضا ہے کہ وہ بالواسطہ علم پر قناعت کرے اور براہِ راست علم پر اصرار کرنا چھوڑ دے۔ بالفاظ دیگر قرینہ سے حاصل شدہ علم کو بھی اسی طرح معقول (valid) مان لے جس طرح وہ مشاہدہ سے حاصل شدہ علم کو معقول مانتا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است