وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۱۰:۱۸
اذ اوى الفتية الى الكهف فقالوا ربنا اتنا من لدنك رحمة وهيي لنا من امرنا رشدا ١٠
إِذْ أَوَى ٱلْفِتْيَةُ إِلَى ٱلْكَهْفِ فَقَالُوا۟ رَبَّنَآ ءَاتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةًۭ وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًۭا ١٠
إِذۡ
أَوَى
ٱلۡفِتۡيَةُ
إِلَى
ٱلۡكَهۡفِ
فَقَالُواْ
رَبَّنَآ
ءَاتِنَا
مِن
لَّدُنكَ
رَحۡمَةٗ
وَهَيِّئۡ
لَنَا
مِنۡ
أَمۡرِنَا
رَشَدٗا
١٠
(بیاد آور) آنگاه که آن جوانان به غار پناه بردند، و گفتند: «پروردگارا! ما را از سوی خود رحمتی عطا کن، و راه نجاتی برایمان ما فراهم ساز».
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 18:9 تا 18:12

اصحاب کہف کا واقعہ ایک علامتی واقعہ ہے، جو بتاتا ہے کہ سچے اہل ایمان کی زندگی میں کس قسم کے مراحل پیش آتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان بعض اوقات حالات کی شدت کی بنا پر کسی ’’غار‘‘ میں پناہ لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مگر یہ غار جو بظاہر ان کے لیے ایک قبر تھا، وہاں سے زندگی اور حرکت کا ایک نیا سیلاب پھوٹ پڑتا ہے۔ ان کے مخالفین نے جہاں ان کی تاریخ ختم کردینی چاہی تھی وہیں سے دوبارہ ان کے لیے ایک نئی تاریخ شروع ہوجاتی ہے۔

کہف والے اگر وہی ہیں جو مسیحی تاریخ میں سات سونے والے (seven sleepers) کہے جاتے ہیں تو یہ قصہ شہر افیسس (Ephesus) سے تعلق رکھتاہے۔یہ قدیم زمانے کا ایک مشہور شہر ہے۔ جو ترکی کے مغربی ساحل پر واقع تھا اور جس کے پُرعظمت کھنڈر آج بھی وہاں پائے جاتے ہیں۔ 249-251 ء میں اس علاقے میں رومی حکمراں ڈیسیس (Desius)کی حکومت تھی۔ یہاں بت پرستی کا زور تھا۔ اور چاند کو معبود قرار دے کر اسے پوجا جاتا تھا۔ اس زمانہ میں حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں کے ذریعہ یہاں توحید کی دعوت پہنچی اور پھیلنے لگی۔ رومی حکمراں جو خود بھی بت پرست تھا، مذہبِ توحید کی اشاعت کو برداشت نہ کرسکا اور حضرت مسیح کے پیروؤں پر سختیاں کرنے لگا۔ مذکورہ اصحاب کہف افیسس کے اعلیٰ گھرانوں کے سات نوجوان تھے جنھوں نے غالباً 250 ء میں مذہبِ توحید کو قبول کرلیا۔ اور ا س کے مبلغ بن گئے۔ حکومت کی طرف سے ان کی داروگیر ہوئی تو وہ شہر سے نکل کر قریب کے ایک پہاڑ کی طرف چلے گئے اور وہاں ایک بڑے غار میں چھپ گئے۔

اصحابِ رقیم غالباً انھیں اصحابِ کہف کا دوسرا نام ہے۔ رقیم کے معنی مرقوم کے ہیں، یعنی لکھی ہوئی چیز۔ کہا جاتا ہے کہ اعلیٰ خاندانوں کے مذکورہ سات نوجوان جب لا پتہ ہوگئے تو بادشاہ کے حکم سے ان کے نام اور حالات ایک سیسہ کی تختی پر لکھ کر شاہی خزانہ میں رکھ دئے گئے،اس بنا پر ان کا دوسرا نام اصحاب رقیم (تختی والے) پڑ گیا (تفسیر ابن کثیر، جلد5، صفحہ 139 )

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است