اصحاب کہف کے بارہ میں کچھ لوگ غیر ضروری بحثوں میں مبتلا تھے۔ کسی نے کہا کہ ان کی تعداد تین تھی اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ کسی نے کہا کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ کسی نے کہا کہ وہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔
مگر اس قسم کی بحثیں مزاج کی خرابی کی علامت ہیں۔ جب دینی روح زندہ ہو تو سارا زور اصل حقیقت پر دیا جاتا ہے۔ اور جب قوم پر زوال آتا ہے تو اصل روح پس پشت چلی جاتی ہے اور ظاہری تفصیلات بحث و مناظرہ کا موضوع بن جاتی ہیں۔ سچے خدا پرست کو چاہیے کہ وہ ان بحثوں میں نہ پڑے بلکہ اگر کوئی دوسرا شخص اس قسم کے سوالات کرے تو اس کو اجمالی جواب دے کر گزر جائے۔