اب سورت کے آخر میں معاشرتی و سماجی معاملات کے بارے میں دوبارہ کچھ ہدایات دی جا رہی ہیں۔ مضامین کی ترتیب کے اعتبار سے اس سورت کی مثال ایک ایسے خوبصورت ہار کی سی ہے جس کے درمیان میں ایک بہت بڑا ہیرا ہے اور اس کے دونوں اطراف میں موتی جڑے ہوئے ہیں۔ سورت کا پانچواں رکوع جو اس کا وسطی رکوع ہے اس طرح شروع ہوتا ہے : اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْہَا مِصْبَاحٌط اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ ط۔ یہ اس سورت کی آیت 35 ہے جو سورت کے تقریباً وسط میں کوہ نور ہیرے کی مانند ہے اور اس کے دونوں اطراف میں معاشرتی و سماجی احکام موتیوں کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ احکام پہلے چار رکوعات میں ہیں اور کچھ آخری چار رکوعات میں۔ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْکُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ ط ”دن رات میں تین اوقات تمہاری خلوت privacy کے اوقات ہیں۔ ان اوقات میں تمہارے غلام ‘ باندیاں اور بچے بھی بلا اجازت تمہاری خلوت میں مخل نہ ہوں۔ ان اوقات کی تفصیل یہ ہے :ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّکُمْ ط ”یعنی یہ تمہاری خلوت privacy کے اوقات ہیں۔ ان اوقات میں تمہارے خادموں اور تمہارے بچوں کا اچانک تمہارے پاس آجانا مناسب نہیں ‘ لہٰذا انہیں یہ ہدایت کردی جائے کہ وہ ان اوقات میں تمہاری خلوت کی جگہ آنے لگیں تو پہلے اجازت لے لیا کریں۔لَیْسَ عَلَیْکُمْ وَلَا عَلَیْہِمْ جُنَاحٌم بَعْدَہُنَّ ط ”یعنی ان اوقات کے علاوہ تمہارے غلام ‘ باندیاں یا بچے اگر تمہارے پاس بغیر اجازت آئیں جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔طَوَّافُوْنَ عَلَیْکُمْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط ”یعنی گھر کے اندر ادھر ادھر مختلف کاموں کے لیے مختلف افراد کو وقتاً فوقتاً آنا جانا ہوتا ہے۔ اس طرح کی آمد و رفت پر ان خاص اوقات کے علاوہ کوئی پابندی نہیں ہے۔