قرآن جب اترا تو وہ بیک وقت ایک پوری کتاب کی شکل میں نہیں اترا بلکہ جزء جزء کرکے
فرمایا کہ قرآن محض ایک تصنیف نہیں، وہ ایک دعوت ہے۔ اور دعوت کی مصلحتوں میں سے ایک مصلحت یہ ہے کہ اس کو بتدریج سامنے لایا جائے تاکہ وہ ماحول میں مستحکم ہوتی چلی جائے۔
جو دعوت کامل حق ہو اس کے خلاف ہر اعتراض جھوٹا اعتراض ہوتاہے۔ اس کے خلاف جب بھی کوئی اعتراض اٹھے اور پھر اس کی سچی وضاحت کردی جائے تو اس سے دعوت کی صداقت مزید ثابت ہوجاتی ہے۔ وہ کسی بھی درجہ میں مشتبہ نہیں ہوتی۔