عاد کے بعد دوسری قوم جس کو عروج ملا وہ ثمود کی قوم تھی (الاعراف،
ہر شخص اور ہر گروہ جس کو دنیا کا سازوسامان ملتا ہے وہ اس غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے کہ یہ سب اس کا حق ہے اور وہ جس طرح چاہے اسے استعمال کرے۔ مگر یہ سب سے بڑی بھول ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا اسباب صرف امتحان کی مدت تک کے ليے ہے۔ اس کے بعد وہ اس طرح چھین لیا جائے گا کہ آدمی کے پاس ان میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔
حد سے گزرنے والا (مسرف) وہ شخص ہے جس کے پاس دولت آئے تو وہ شکر کے بجائے فخر کی نفسیات میں مبتلا ہوجائے۔ وہ اقتدار پائے تو تواضع کے بجائے گھمنڈ کرنے لگے۔ اس کو عہدہ دیا جائے تو وہ اس کو خدمت کے بجائے اپنانام بلند کرنے کے ليے استعمال کرے۔ مواقع کے یہی غلط استعمالات ہیں جو معاشرہ میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ قوم ثمود کے بڑے لوگ اسی قسم کے اسراف میں مبتلا تھے۔ اور ان کے عوام ان کی پیروی کررہے تھے ۔ پیغمبر نے انھیں متنبہ کیا کہ یہ لوگ جن کو تم بڑا سمجھتے ہو وہ تو خود بے راہ ہیں پھر وہ تم کو کیسے راستہ دکھائیں گے۔