خدا جس شخص کو اپنی نمائندگی کے لیے منتخب کرے وہ ہر اعتبار سے خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے اسی کے ساتھ اس کے لیے مزید اہتمام یہ کیا جاتاہے کہ اس کو خصوصی نشانیاں دی جاتی ہیں جو اس بات کی صریح علامت ہوتی ہیں کہ اس کا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ مگر انسان اتنا ظالم ہے کہ اس کے باوجودوہ اعتراف نہیں کرتا۔
حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کے سلسلہ میں فرعون سے جو مطالبہ کیا اس کا تفصیلی مطلب کیا تھا، اس کے بارے میں قرآن میں کوئی وضاحت موجود نہیں ہے۔ تورات کا بیان اس سلسلہ میں حسب ذیل ہے
(موسیٰ نے فرعون سے کہا) اب تو ہم کو تین دن کی منزل تک بیابان میں جانے دے تاکہ ہم خداوند اپنے خدا کے ليے قربانی کریں (خروج،
بائبل کے بیان سے بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسیٰ کا یہ سفر ہجرت کے ليے نہیں بلکہ تربیت کے ليے تھا۔ مصر میں گائے مقدس مانی جاتی تھی۔ صدیوں کے عمل سے بنی اسرائیل بھی اس سے متاثر ہوگئے تھے۔ اب حضرت موسیٰ نے چاہا کہ بنی اسرائیل کو کچھ دنوں کے ليے مصر کے مشرکانہ ماحول سے باہر لے جائیں اور ان کو آزاد فضا میں رکھ کر ان کی تربیت کریں۔