وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۷۷:۲۸
وابتغ فيما اتاك الله الدار الاخرة ولا تنس نصيبك من الدنيا واحسن كما احسن الله اليك ولا تبغ الفساد في الارض ان الله لا يحب المفسدين ٧٧
وَٱبْتَغِ فِيمَآ ءَاتَىٰكَ ٱللَّهُ ٱلدَّارَ ٱلْـَٔاخِرَةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ ٱلدُّنْيَا ۖ وَأَحْسِن كَمَآ أَحْسَنَ ٱللَّهُ إِلَيْكَ ۖ وَلَا تَبْغِ ٱلْفَسَادَ فِى ٱلْأَرْضِ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُفْسِدِينَ ٧٧
وَٱبۡتَغِ
فِيمَآ
ءَاتَىٰكَ
ٱللَّهُ
ٱلدَّارَ
ٱلۡأٓخِرَةَۖ
وَلَا
تَنسَ
نَصِيبَكَ
مِنَ
ٱلدُّنۡيَاۖ
وَأَحۡسِن
كَمَآ
أَحۡسَنَ
ٱللَّهُ
إِلَيۡكَۖ
وَلَا
تَبۡغِ
ٱلۡفَسَادَ
فِي
ٱلۡأَرۡضِۖ
إِنَّ
ٱللَّهَ
لَا
يُحِبُّ
ٱلۡمُفۡسِدِينَ
٧٧
و در آنچه الله به تو داده، سرای آخرت را بجوی و بهره‌ات را از دنیا فراموش نکن [ یعنی در مباحات دنیا نیز اسراف و ولخرجی نکن. مباحات دنیا مانند خوردن، نوشیدن، لباس، خانه، ازدواج و غیره. مطلب اینست که همچنانکه بایستی حق پروردگار را ادا کرد نیز باید حق بدن خود و زن و بچه و مهمان‌ها و غیره را ادا کرد. یعنی باید حق هر حق‌داری را به جای آورد.]، و همان‌گونه که الله به تو نیکی کرده است؛ نیکی کن، و هرگز در زمین در پی فساد مباش، بی‌گمان الله مفسدان را دوست ندارد»
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط

آیت 77 وَابْتَغِ فِیْمَآ اٰتٰٹک اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ ”یہ دولت اللہ ہی کی دی ہوئی ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ اس کے راستے میں خرچ کر کے اپنے لیے توشۂ آخرت جمع کرنے کی کوشش کرو۔ اس ضمن میں سورة التوبہ کی آیت 111 کے یہ الفاظ بھی مد نظر رہیں : اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ ط ”یقیناً اللہ نے خرید لی ہیں اہل ایمان سے ان کی جانیں بھی اور ان کے مال بھی ‘ اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔“ وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا ”کسی دولت مند شخص کے لیے یہ تیسری نصیحت ہے کہ جو دولت اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اس میں سے اپنی ذات پر بھی خرچ کرو۔ اس سے یوں لگتا ہے کہ جیسے قارون بہت کنجوس تھا۔ اسے بس دولت جمع کرنے ہی کی فکر تھی ‘ دولت کو خرچ کرنے سے وہ گھبراتا تھا ‘ حتیٰ کہ اپنی ذاتی ضروریات کو بھی نظر انداز کردیتا تھا۔ اس سلسلے میں سورة الاعراف آیت 32 کے ان الفاظ میں بہت واضح راہنمائی موجود ہے : قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ ط ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہیں کہ کس نے حرام کی ہے وہ زینت جو اللہ نے نکالی ہے اپنے بندوں کے لیے ؟ اور کس نے حرام کی ہیں پاکیزہ چیزیں کھانے کی ؟“ یعنی ایک خوشحال آدمی کو اچھا کھانے اور اچھا پہننے سے کس نے منع کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو رہبانیت اختیار کرنے کا حکم تو نہیں دیا ‘ بلکہ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ اعتدال کی روش کو پسند فرماتے ہیں۔ چناچہ سورة الفرقان کی آیت 67 میں ”عباد الرحمن“ کے اوصاف میں سے ایک صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے : وَالَّذِیْنَ اِذَآ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا۔ ”اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل سے کام لیتے ہیں ‘ بلکہ ان کا خرچ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے“۔ بہر حال آیت زیر مطالعہ میں اس حکم کے ذریعے اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوڑے بغیر اپنے وسائل میں سے اپنی اور اپنے متعلقین کی ضروریات پر خرچ کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں چوتھی نصیحت یہ دی گئی ہے : وَاَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ ”اللہ نے تمہیں دولت دی ہے تو یہ اللہ کا تم پر بہت بڑا احسان ہے۔ لہٰذا تمہیں چاہیے کہ تم بھی لوگوں پر احسان کرو اور اپنے بیگانے کی تفریق و تخصیص کیے بغیر غریبوں ‘ مسکینوں اور محتاجوں کی مدد کو اپنا شعار بناؤ۔ اس سلسلے میں سورة المعارج میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی تعریف ان الفاظ میں فرمائی ہے : وَالَّذِیْنَ فِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ لِّلسَّآءِلِ وَالْمَحْرُوْمِ ”اور وہ لوگ جن کے اموال میں ایک مقررہ حصہ ہے ‘ سائلوں اور ناداروں کا“۔ اور اب پانچویں نصیحت :وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِط اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ”اپنے سیاق وسباق کے حوالے سے یہ بہت اہم ہدایت ہے۔ وہ کون سا فساد تھا جس میں قارون ملوث تھا ؟ یہ سمجھنے کے لیے مصر کے اس ماحول کا تصور کریں جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام دن رات ہمہ تن کار نبوت اور فرائضِ رسالت کی ادائیگی میں لگے ہوئے تھے۔ اس معاشرے کے کچھ لوگ تو آپ علیہ السلام کا ساتھ دے رہے تھے اور اس کام میں آپ علیہ السلام کا ہاتھ بٹانے کی کوشش میں تھے ‘ جبکہ کچھ دوسرے لوگ آپ علیہ السلام کی راہ میں روڑے اٹکانے اور آپ علیہ السلام کے مشن کو ناکام بنانے کے لیے سازشوں میں مصروف تھے۔ گویا اللہ تعالیٰ اس معاشرے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے سے جو خیر پیدا کرنا چاہتا تھا ‘ قارون اور اس کے گروہ کے لوگ مختلف حربوں سے اس خیر کا راستہ روکنے کی کوشش میں مصروف تھے ‘ اور یہی وہ ”فساد فی الارض“ ہے جس کا یہاں ذکر ہوا ہے۔ اس حوالے سے اگر ہم رسول اللہ ﷺ کے مدنی دور کا جائزہ لیں تو مدینہ کے منافقین بھی آپ ﷺ کے مشن کے خلاف اسی طرح کی منفی سرگرمیوں میں مصروف عمل تھے۔ ان کی مفسدانہ سازشوں کا ذکر سورة البقرۃ میں اس طرح کیا گیا ہے : وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ لاَ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِلا قالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ۔ اَلَآ اِنَّہُمْ ہُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰکِنْ لاَّ یَشْعُرُوْنَ ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد مت مچاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار ! بلاشبہ وہی ہیں فساد کرنے والے ‘ لیکن وہ شعور نہیں رکھتے“۔ چناچہ کسی دینی جماعت یا تحریک کی اصلاحی اور انقلابی کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اور ایسی جماعت کے نظم کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیاں کرنا گویا ”فساد فی الارض“ کے زمرے میں آتا ہے اور اللہ کو ایسے مفسد لوگ پسند نہیں ہیں۔ یعنی دین کی سربلندی کے لیے کی جانے والی کوشش کا حصہ بنو ‘ نہ کہ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرو۔ مندرجہ بالا ہدایات کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ انہیں ایک مرتبہ پھر سے دہرایا جائے : 1 لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ ”اپنی دولت پر اتراؤ مت ‘ یقیناً اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“ 2 وَابْتَغِ فِیْمَآ اٰتٰٹک اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ ”اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس سے دار آخرت حاصل کرنے کی کوشش کرو“ 3 وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا ”اور تم دنیا سے اپنا حصہ مت بھولو“ 4 وَاَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ ”اور لوگوں کے ساتھ احسان کرو ‘ جیسے اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے“ 5 وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِط اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ”اور زمین میں فساد مت مچاؤ ‘ یقیناً اللہ فساد مچانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔“

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است