وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۱۰۵:۲
ما يود الذين كفروا من اهل الكتاب ولا المشركين ان ينزل عليكم من خير من ربكم والله يختص برحمته من يشاء والله ذو الفضل العظيم ١٠٥
مَّا يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ وَلَا ٱلْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍۢ مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَٱللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِۦ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ ١٠٥
مَّا
يَوَدُّ
ٱلَّذِينَ
كَفَرُواْ
مِنۡ
أَهۡلِ
ٱلۡكِتَٰبِ
وَلَا
ٱلۡمُشۡرِكِينَ
أَن
يُنَزَّلَ
عَلَيۡكُم
مِّنۡ
خَيۡرٖ
مِّن
رَّبِّكُمۡۚ
وَٱللَّهُ
يَخۡتَصُّ
بِرَحۡمَتِهِۦ
مَن
يَشَآءُۚ
وَٱللَّهُ
ذُو
ٱلۡفَضۡلِ
ٱلۡعَظِيمِ
١٠٥
کافران از اهل کتاب و مشرکان دوست ندارند که از جانب پروردگارتان خیر و برکتی بر شما نازل گردد، در حالی‌که الله رحمت خود را به هر کس بخواهد اختصاص می‌دهد، و الله دارای فضل بزرگ است.
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 2:104 تا 2:105
مسلمانوں کافروں کی صورت لباس اور زبان میں مشابہت سے بچو! ٭٭

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو کافروں کی بول چال اور ان کے کاموں کی مشابہت سے روک رہا ہے یہودی بعض الفاظ زبان دبا کر بولتے تھے اور مطلب برا لیتے تھے جب انہیں یہ کہنا ہوتا کہ ہماری سنیے تو کہتے تھے راعنا اور مراد اس سے رعونت اور سرکشی لیتے تھے جیسے اور جگہ بیان ہے آیت «مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَرَاعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّينِ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَـٰكِن لَّعَنَهُمُ اللَّـهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا» [ 4-النساء: 46 ] ‏ یعنی یہودیوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو باتوں کو اصلیت سے ہٹا دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم سنتے ہیں لیکن مانتے نہیں اپنی زبانوں کو موڑ توڑ کر اس دین میں طعنہ زنی کے لیے «راعنا» کہتے ہیں اگر یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور مانا ہماری بات سنیے اور ہماری طرف توجہ کیجئے تو یہ ان کے لیے بہتر اور مناسب ہوتا لیکن ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے دور پھینک دیا ہے اس میں ایمان بہت ہی کم ہے۔ احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ جب یہ لوگ سلام کرتے ہیں تو السام علیکم کہتے ہیں اور سام کے معنی موت کے ہیں تو تم ان کے جواب میں وعلیکم کہا کرو۔ [صحیح بخاری:6257] ‏ ہماری دعا ان کے حق میں قبول ہو گی اور ان کی بد دعا ہمارے حق میں مقبول نہیں ہو گی۔ [صحیح مسلم:2166] ‏ الغرض قول و فعل میں ان سے مشابہت کرنا منع ہے مسند احمد کی حدیث میں ہے میں قیامت کے قریب تلوار کے ساتھ بھیجا گیا ہوں میری روزی حق تعالیٰ نے میرے نیزے تلے لکھی ہے اس کے لیے ذلت اور پستی ہے مگر جو میرے احکام کے خلاف چلے کرے اور جو شخص کسی [ غیر مسلم ] ‏ قوم سے مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہے۔ [مسند احمد:50/2:حسن بالشواھد] ‏ ابوداؤد میں بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے۔ [سنن ابوداود:4031، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏ اس آیت اور حدیث سے ثابت ہوا کہ کفار کے اقوال وافعال لباس عید اور عبادت میں ان کی مشابہت کرنا جو ہمارے لیے مشروع اور مقرر نہیں سخت منع ہے ایسا کرنے والوں کو شریعت میں عذاب کی دھمکی سخت ڈراوا اور حرمت کی اطلاع دی گئی ہے۔

صفحہ نمبر429

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب تم قرآن کریم میں آیت «يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا» سنو تو کان لگا دو اور دل سے متوجہ ہو جایا کرو کیونکہ یا تو کسی بھلائی کا حکم ہو گا یا کسی برائی سے ممانعت ہو گی خیثمہ فرماتے ہیں توراۃ میں بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے «يَا أَيّهَا الْمَسَاكِين» فرمایا ہے لیکن امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آیت «يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا» کے معزز خطاب سے یاد فرمایا ہے «راعنا» کے معنی ہماری طرف کان لگانے کے ہیں بروزن «عاطنا» ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:461/2] ‏ مجاہد فرماتے ہیں اس کے معنی خلاف کے بھی ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:318/1] ‏ یعنی خلاف نہ کہا کرو اس سے یہ بھی مروی ہے کہ مطلب یہ کہ آپ ہماری سنئے اور ہم آپ کی سنیں۔

انصار نے بھی یہی لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہنا شروع کر دیا تھا جس سے قرآن پاک نے انہیں روک دیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:318/1] ‏

صفحہ نمبر430

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں «راعن» کہتے ہیں [ راعن مذاق کی بات کو کہتے ہیں ] ‏ یعنی تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں اور اسلام سے مذاق نہ کیا کرو۔ ابو صخررحمہ اللہ کہتے ہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جانے لگتے تو جنہیں کوئی بات کہنی ہوتی وہ کہتے اپنا کان ادھر کیجئے اللہ تعالیٰ نے اس بےادبی کے کلمہ سے روک دیا اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرنے کی تعلیم فرمائی۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں رفاعہ بن زید یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتے ہوئے یہ لفظ کہا کرتا تھا مسلمانوں نے بھی یہ خیال کر کے یہ لفظ ادب کے ہیں یہی لفظ استعمال کرنے شروع کر دیئے جس پر انہیں روک دیا گیا جیسے سورۃ نساء میں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس کلمہ کو اللہ نے برا جانا اور اس کے استعمال سے مسلمانوں کو روک دیا جیسے حدیث میں آیا ہے کہ انگور کو کرم اور غلام کو عبد نہ کہو وغیرہ۔ [صحیح مسلم:2248] ‏

اب اللہ تعالیٰ ان بد باطن لوگوں کے حسد و بغض کو بیان فرماتا ہے کہ اے مسلمانو! تمہیں جو اس کامل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کامل شریعت ملی ہے اس سے یہ تو جل بھن رہے ہیں ان سے کہہ دو کہ یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عنایت فرمائے وہ بڑے ہی فضل و کرم والا ہے۔

صفحہ نمبر431
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است