وارد شوید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
🚀 به چالش رمضانی ما بپیوندید!
بیشتر بدانید
وارد شوید
وارد شوید
۲۰۵:۲
واذا تولى سعى في الارض ليفسد فيها ويهلك الحرث والنسل والله لا يحب الفساد ٢٠٥
وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِى ٱلْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ ٱلْحَرْثَ وَٱلنَّسْلَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلْفَسَادَ ٢٠٥
وَإِذَا
تَوَلَّىٰ
سَعَىٰ
فِي
ٱلۡأَرۡضِ
لِيُفۡسِدَ
فِيهَا
وَيُهۡلِكَ
ٱلۡحَرۡثَ
وَٱلنَّسۡلَۚ
وَٱللَّهُ
لَا
يُحِبُّ
ٱلۡفَسَادَ
٢٠٥
او هنگامی‌که روی بر می‌گرداند و می‌رود (و یا به ریاستی می‌رسد) در راه فساد در زمین کوشش می‌کند و کشت و نسل را نابود می‌سازد، و الله فساد و (تباهکاری) را دوست نمی‌دارد.
تفاسیر
درس ها
بازتاب ها
پاسخ‌ها
قیراط
شما در حال خواندن تفسیری برای گروه آیات 2:204 تا 2:207

جو شخص مصلحت کو اپنا دین بنائے اس کی باتیں ہمیشہ لوگوں کو بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں۔ کیوں کہ وہ لوگوں کی پسند کو دیکھ کر اس کے مطابق بولتا ہے، نہ کہ یہ دیکھ کر کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ اس کے سامنے کوئی مستقل معیار نہیں ہوتا۔ اس ليے وہ مخاطب کی رعایت سے ہر وہ انداز اختیار کرلیتا ہے جو مخاطب پر اثر ڈالنے والا ہو۔ حق کا وفادار نہ ہونے کی وجہ سے اس کے لیے یہ مشکل نہیں رہتا کہ دل میں کوئی حقیقی جذبہ نہ ہو تے ہوئے بھی وہ زبان سے خوب صورت باتیں کرے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے کہ بات کے اسٹیج پر وہ مصلح کے روپ میں نظر آتا ہے اور عمل کے میدان میں اس کی سرگرمیاں فساد کا باعث بن جاتی ہیں۔اس کی وجہ اس کا تضاد ہے۔ عملی نتائج ہمیشہ عمل سے پیدا ہوتے ہیں، نہ کہ الفاظ سے۔ وہ اگرچہ زبان سے حق پرستی کے الفاظ بولتا ہے۔ مگر عمل کے اعتبار سے وہ جس سطح پر ہوتاہے وہ صرف ذاتی مفاد ہے۔ یہ چیز اس کے قول وعمل میں فرق پیدا کردیتی ہے۔ بات کے مقام سے ہٹ کر جب وہ عمل کے مقام پر آتا ہے تو اس کے مفاد کا تقاضا کھینچ کر اس کو ایسی سرگرمیوں کی طرف لے جاتاہے جو صرف تخریب پیدا کرنے والی ہیں۔ یہاں وہ اپنے ذاتی فائدے کی خاطر دوسروں کا استحصال کرتاہے۔ وہ عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو جذباتی باتوں کی شراب پلاتاہے۔ وہ اپنی قیادت قائم کرنے کی خاطر پوری قوم کو داؤ پر لگا دیتاہے۔ وہ تعمیر کے بجائے تخریب کی سیاست چلاتا ہے۔ کیوں کہ اس طرح زیادہ آسانی سے عوام کی بھیڑ اپنے گرد اكٹھا کی جاسکتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دنیا کے مفاد اور مصلحت کے ساتھ اپنی زندگی کا سودا کیا۔ حق واضح ہوجانے کے بعد بھی وہ اس کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ کیوں کہ اس میں ان کو اپنے وقار کا بت ٹوٹتاہوا نظر آتاہے۔ ظاہری طورپر نرم باتوں کے پیچھے ان کی متکبرانہ نفسیات ان کو ایک ایسے حق كے داعي کے سامنے جھکنے سے روک دیتی ہے جس کو وہ اپنے سے چھوٹا سمجھتے ہیں۔

دوسرے لوگ وہ ہیں جو اللہ کی رضا کے ساتھ اپنی زندگی کا سودا کرتے ہیں۔ ایسا شخص اپنے عادات و خیالات سے دست بردار ہو کر خدا کی باتوں کو قبول کرتاہے۔ وہ اپنے مال کو خدا کے حوالے کرکے اس کے بدلے بے مال بن جانے کو گوارا کرلیتاہے۔ وہ رواجی دین کو رد کرکے خدا کے بے آمیز دین کو لیتاہے، خواہ اس کی وجہ سے اس کو غیر مقبولیت پر راضی ہونا پڑے۔ وہ مصلحت پرستی کے بجائے اعلان حق کو اپنا شیوہ بناتا ہے، اگرچہ اس کے نتیجہ میں وہ لوگوں کے عتاب کا شکار ہوتا رہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن بخوانید، گوش دهید، جستجو کنید و در قرآن فکر کنید

Quran.com یک پلتفرم قابل اعتماد است که میلیون‌ها نفر در سراسر جهان برای خواندن، جستجو، گوش دادن و تأمل در مورد قرآن به زبان‌های مختلف از آن استفاده می‌کنند. این پلتفرم ترجمه، تفسیر، تلاوت، ترجمه کلمه به کلمه و ابزارهایی برای مطالعه عمیق‌تر ارائه می‌دهد و قرآن را برای همه قابل دسترسی می‌کند.

به عنوان یک صدقه جاریه، Quran.com به کمک به مردم برای ارتباط عمیق با قرآن اختصاص دارد. Quran.com با حمایت Quran.Foundation ، یک سازمان غیرانتفاعی 501(c)(3)، به عنوان یک منبع رایگان و ارزشمند برای همه، به لطف خدا، به رشد خود ادامه می‌دهد.

پیمایش کنید
صفحه اصلی
رادیو قرآن
قاریان
درباره ما
توسعه دهندگان
به روز رسانی محصول
بازخورد
کمک
پروژه های ما
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
پروژه های غیرانتفاعی تحت مالکیت، مدیریت یا حمایت شده توسط Quran.Foundation
لینک های محبوب

Ayatul Kursi

Surah Yaseen

Surah Al Mulk

Surah Ar-Rahman

Surah Al Waqi'ah

Surah Al Kahf

Surah Al Muzzammil

نقشه سایتحریم خصوصیشرایط و ضوابط
© ۲۰۲۶ Quran.com. تمامی حقوق محفوظ است